خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 804 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 804

خطبات طاہر جلد ۸ 804 خطبہ جمعہ ۱۵/دسمبر ۱۹۸۹ء اگر میری مدد نہیں کرنا چاہتے تو نہ کرو لیکن دشمنی اور فساد سے اپنے ہاتھ روک لو اور پیٹھ پیچھے سے خنجر گھونپنے کا کام بند کرو۔یہ آپ کا پیغام تھا جو مختلف شکلوں میں مختلف وقتوں میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا رہا اور آخر اس رسالے پر منتج ہوا جس کا نام ”پیغام صلح ہے اور اس میں آپ نے صرف مسلمانوں کو ہی نہیں ، دنیا کی تمام قوموں کو قدر مشترک پر اکٹھے ہونے کی دعوت دی اور فرمایا کہ امن اور اور صلح اور آشتی کے ساتھ ہم بھلائی کی خدمت کریں اور فساد کو دنیا سے مٹا دیں۔اُن نیک کاموں پر اکٹھے ہو جائیں جن نیک کاموں کو ہم سب نیک کام ہی سمجھتے ہیں۔پس دیکھئے اسلام کتنا عظیم الشان مذہب ہے اور قرآن کریم کی ایک ایک سورۃ کتنی حیرت انگیز گہرائیاں اپنے اندر رکھتی ہے۔سورہ آل عمران کا آپ نے بار ہا مطالعہ کیا ہو گا لیکن شاید ہی کبھی یہ خیال گزرا ہو کہ ایک مومن کے مجادلے کی ساری زندگی کو تین ادوار میں سمیٹ کر یہ پیش کر رہی ہے اور ہر دور کا دوسرے دور کے ساتھ ایک طبیعی تعلق ہے اور اس ترتیب کو بدلا نہیں جاسکتا۔اگر انسان کے دماغ کی بات ہوتی تو اس نے مباہلے کو سب سے آخر پر رکھنا تھا اور وہاں بات تو ڑ دینی تھی مگر یہ خدا کا حکیمانہ کلام تھا جہاں انسانی استدلال کو راہ نہیں ہے اور انسانی استدلال وہاں تک پہنچ نہیں سکتا۔چنانچہ کیسی عظیم الشان ترتیب قائم کی ہے که بنی نوع انسان کے درمیان کبھی بھی روابط منقطع نہیں ہوں گے۔مباہلے تک بات پہنچنے کے بعد بھی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرنا ایک مومن کا فرض ہے اور اسی خاطر مومن کو کھڑا کیا گیا ہے۔پس جماعت احمدیہ کا جہاں تک تعلق ہے اگر کسی دل میں یہ وہم پیدا ہورہا ہو کہ اب مباہلہ ہو چکا۔اب ہمارا ان سے کوئی رابطہ نہیں رہا، اب ہمارے تعلقات ٹوٹ گئے۔اب جدائیوں کی فصیلیں حائل ہو گئیں تو یہ خیال جھوٹا ہے۔یہ تین مجادلوں کا دور بار بار ظاہر ہوتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی یہ دور اسی شکل سے اسی ترتیب سے ظاہر ہوتا رہا ہے اور گزشتہ اسلام کی تاریخ میں بھی ہم اسی قسم کے نظارے سنتے ہیں کہ رابطے کبھی بھی نہیں ٹوٹے اور جب بھی رابطے دوبارہ قائم ہوئے ، اسی تدریج سے اور اسی ترتیب سے قائم ہوئے۔پہلے برہان کو استعمال کیا گیا اور استدلال کو استعمال کیا گیا پھر خدا کی عدالت میں مقدمے پیش ہوئے اور بالآخر اس قدر مشترک کی طرف قوموں کو بلایا گیا جو سب کے ایمان کا مشترک جزء ہے۔اس پہلو سے جماعت احمدیہ کے مجادلے کا دور ختم نہیں ہوا اور میں تمام عالمگیر جماعت کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ اپنے