خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 802 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 802

خطبات طاہر جلد ۸ 802 خطبه جمعه ۱۵/دسمبر ۱۹۸۹ء استدلال، حجت، عقل و خرد کے ذریعے بات کو سمجھنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔اس وقت ل لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ (الشوری:۱۲) کا اعلان ہوتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اب اس کے بعد تمہارے بڑوں اور ہمارے سر براہوں کے درمیان حجت کا دور ختم ہو چکا۔پھر مباہلے کی بات چلتی ہے، پھر پہلی مرتبہ قرآن کریم حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہدایت فرماتا ہے کہ رابطے اب بھی قائم رہیں گے مگر اور نوعیت کے رابطے بن کر قائم ہوں گے۔اب ان کو تو مباہلے کا چیلنج دے اور ان سے کہہ کہ جو فیصلے استدلال کی دنیا میں طے نہیں ہو سکے وہ آسمان کی عدالت میں پیش کئے جائیں اور آسمان سے ان کے فیصلے چاہے جائیں۔جماعت احمدیہ میں بھی ، جماعت احمدیہ کی اس تاریخ میں بھی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ظاہر ہوئی ہم نے انہیں دو ادوار کو اسی طرح یکے بعد دیگرے رونما ہوتے دیکھا۔مباہلے کے دور کے بعد بظاہر یہ تاثر پڑتا ہے کہ اب رابطے کلیہ منقطع ہو چکے ہیں مگر قرآن کریم کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ رابطے منقطع نہیں ہوتے بلکہ ایک نئے دور میں داخل ہو جاتے ہیں۔چنانچہ عقل بظاہر یہ نتیجہ نکالتی ہے کہ جب عدالت عالیہ یعنی خدا تعالیٰ کی عدالت میں معاملہ پیش کر دیا گیا تو پھر اب کون سے رابطے کی راہ باقی رہ جاتی ہے مگر جو آیت میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے یہ مباہلے کے بعد کی آیت ہے اور مباہلے کے بعد خدا تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتا ہے کہ اب تیسری قسم کی رابطے کی یہ صورت اختیار کرو۔حجت کی راہ ختم ہو گئی۔مباہلے کا اثر دیکھ لیا گیا۔اب تو ان سے کہہ یاهْلَ الْكِتُبِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةِ سَوَاء بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ بہت ہی عظیم الشان پیغام ہے۔گہری حکمتیں ہیں۔اُن قوموں کے لئے جو دوسری قوموں سے کسی نظریاتی دنیا میں نبرد آزما ہوتی ہیں۔فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم (یعنی نام تو نہیں لیا گیا مگر مخاطب آپ ہی کو فرمایا گیا ہے ) تو اب ان سے کہہ دے کہ اے اہلِ کتاب اختلافی باتیں اب بھول جاؤ۔اختلاف طے کرنے کی دو ہی راہیں تھیں ایک استدلال کے ذریعے دوسرے خدا تعالیٰ کی عدالت میں بات کو پہنچا کر۔یہ دونوں راہیں ہم نے اختیار کر لیں اب تعاون کی بات کرو۔اُن باتوں میں تعاون کی بات کرو جن پر ہم دونوں یقین رکھتے ہیں، جہاں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔جو باتیں تمہیں بھی درست تسلیم ہیں اور جو باتیں ہمیں بھی درست تسلیم ہیں اُن میں