خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 801
خطبات طاہر جلد ۸ 801 خطبه جمعه ۱۵/دسمبر ۱۹۸۹ء يَاهْلَ الْكِتَب تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاء بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ پھر فرمایا:۔کے اصول پر آپس میں تعلقات استوار کرو (خطبه جمعه فرموده ۱۵ دسمبر ۱۹۸۹ء بمقام مسجد فضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ تلاوت کی۔قُلْ يَاهْلَ الْكِتَبِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا (آل عمران: ۶۵) بِأَنَّا مُسْلِمُونَ سورہ ال عمران حق اور باطل کے درمیان مجادلے کو تین مختلف ادوار کی صورت میں ہمارے سامنے پیش کرتی ہے اور ان ادوار کی ایک خاص ترتیب مقرر ہے۔سب سے پہلے استدلال کا دور ہے سب سے پہلے حجت کا اور اتمام حجت کا عرصہ ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو سورۃ آل عمران اُس دور میں اپنے مخالفین سے بحث مباحثے میں مصروف دکھاتی ہے اور بڑے بھاری اور قوی استدلال کے ذریعے اور ناقابل تردید حجت کے ذریعے ان مخالفین کو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سچائی کی راہ دکھاتے ہیں۔یہاں تک کہ وہ کج بحثی میں انتہاء کو پہنچ جاتے ہیں۔یہاں تک کہ ہر پڑھنے والے پر یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ یہ مخالف فریق اب دلیل ،