خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 796
خطبات طاہر جلد ۸ 796 خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۸۹ء کے سروں کو جھکا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے نام پر قوم سے چندہ بٹور کر اس نے اپنی ذاتی جاگیر اور ڈیرے بنائے ہوئے ہیں۔مساوات لاہور ۴ رنومبر ۱۹۸۸ء) یہ ہے نشان مباہلے کا۔اس نشان کو چھپا گئے ہیں اور جو نشان بنتا ہی نہیں اگر بنتا ہے تو اور رنگ میں یعنی ان کے مباہلہ ہارنے کا نشان بنتا ہے۔اس کو یہ اپنے حق میں پیش کر رہے ہیں۔اب میں کچھ اور امور مختصر منظور چنیوٹی صاحب کو یاد کرواتا ہوں تا کہ اپنے اس مرید سے وہ کچھ گواہیاں لے کر اپنے حق میں شائع کروادیں۔یہ کہتے ہیں کہ مباہلہ جس کو انہوں نے قبول کیا، جس کے نتیجے میں یہ کہتے ہیں کہ عودہ مجھے ایک نشان کے طور پر ملا ہے۔اس مباہلے میں بہت سی باتیں میں نے پیش کی تھیں کہ علماء سراسر جھوٹے الزام جماعت پر لگاتے ہیں۔بالکل جھوٹ ہے۔خدا گواہ ہے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے اور لعنۃ اللہ علی الکاذبین کے بعد میں نے اس مضمون کو ختم کیا۔اس میں سے چند الزامات آج میں مثال کے طور پر دھرا رہا ہوں۔چونکہ منظور چنیوٹی صاحب نے اس مباہلے کو قبول کیا ہوا ہے اس لئے اب ان کا فرض ہے کہ ان کے نزدیک جو ان کے حق میں نشان ظاہر ہوا ہے اس سے ان باتوں میں گواہی لے لیں۔اس میں لکھا ہوا تھا کہ جماعت احمدیہ کے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح موعود نعوذ باللہ خدا تھے۔جماعت احمدیہ کے عقیدے کے مطابق خدا کا بیٹا تھے۔جماعت احمدیہ کے عقیدے کے مطابق خدا کا باپ تھے۔یہ تین الزام جو مولوی جماعت پر دھرتے ہیں یہ میں نے مباہلے میں ذکر کئے ہیں اور لعنۃ اللہ علی الکاذبین پر اس بات کو ختم کیا۔اب یہ اپنے اس نئے چیلے سے گواہی لے کر بتائیں کہ یہ جب تک یہ شخص ان کے نزدیک تو بہ کر کے ”مشرف بہ اسلام نہیں ہوا کیا اس کا حضرت مسیح موعود کے متعلق یہی عقیدہ تھا کہ آپ خدا تھے ، خدا کا بیٹا تھے ، خدا کا باپ تھے اور کیا اس کے باقی عزیزوں اور رشتے داروں کا ، اس کے والدین کا اب تک یہی عقیدہ ہے۔پھر اس میں ایک الزام یہ بھی درج تھا کہ ” جماعت احمدیہ کے نزدیک تمام انبیاء سے حضرت مسیح موعود حتی کہ بشمول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم افضل اور برتر تھے۔اب چنیوٹی صاحب اپنے اس مرید سے گواہی لیں کہ واقعہ اس کا ” مشرف بہ اسلام ہونے سے پہلے یہی عقیدہ