خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 795 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 795

خطبات طاہر جلد ۸ 795 خطبه جمعه ۸/دسمبر ۱۹۸۹ء ،، پرو پیگنڈہ کر رہے ہیں کہ چودہویں صدی آخری صدی ہے اور اس کے بعد کوئی صدی نہیں ہے“۔جو پرو پیگنڈا خود مولوی کیا کرتے تھے وہ جماعت احمدیہ کی طرف منسوب کر دیا۔اب یہ صاحب، حسن عودہ صاحب اپنے اس نئے پیر کے حق میں گواہی دیں کہ ہاں میں بھی یہی پروپیگنڈا کیا کرتا تھا اور میرا یہی ایمان تھا۔پھر منظور چنیوٹی صاحب نے یہ اعلان کیا کہ ”مجاہد اسلام اسلم قریشی کی گمشدگی کے سلسلے میں مرزا طاہر کو شامل تفتیش کیا جائے انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت کو چھ آدمیوں کے نام تفتیش کے لئے دیئے تھے جن میں مرزا طاہر احمد بھی شامل ہے۔اگر ان چھ میں ملزم برآمد نہ ہو تو ہم سر بازار گولی کھانے کو تیار ہیں۔تو عودہ صاحب سے گواہی لیں کہ ہاں آپ نے بالکل سچ فرمایا تھا اور بہت سچے آدمی ہیں اور یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ مرزا طاہر احمد نے اس کو اغواء کروا کے قتل کروادیا تھا۔عودہ صاحب کی گواہی تو بعد میں آئے گی۔اس سے پہلے ان کے ایک سابق یار اور اسی قماش کے ایک مولوی کا بیان میں آپ کے سامنے پڑھ کر سناتا ہوں جن کا نام مولانا اللہ یار ارشد صاحب ہے۔مساوات لا ہور۴ رنومبر ۱۹۸۸ء کو ( یہ اس سے کچھ پہلے کا عرصہ ہے جب انہوں نے یہ اعلان کیا کہ میرے حق میں عظیم الشان نشان ظاہر ہو چکا ہے۔جو ان کے حق میں نشان ظاہر ہوا تھا وہ وہاں ہوا ہے یہاں نہیں ہوا وہ نشان یہ تھا کہ اللہ یارارشد صاحب نے اعلان کیا کہ ”مولانا منظور احمد چنیوٹی نے ختم نبوت کے نام کو بیچ کر قوم سے ووٹ حاصل کئے اور پنجاب اسمبلی میں جو مذموم کردار ادا کیا، وہ پوری ملت اسلامیہ کے لئے رسوائی کا سبب بن گیا۔(پوری ملت اسلامیہ کے لئے رسوائی کا سبب بنا۔انہوں نے کہا کہ یہ شخص مذہب کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے اور فتوی بازی اس کا مشن ہے۔انہوں نے کہا کہ قوم کے ساتھ یہ دھوکہ بازی ہم ہرگز نہیں چلنے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ جھوٹ اس کا مشن ہے، دھو کہ اس کا پیشہ ہے۔پنجاب اسمبلی میں معافی مانگ کر اس شخص نے ختم نبوت کے پروانوں