خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 3
خطبات طاہر جلد ۸ 3 خطبه جمعه ۶ جنوری ۱۹۸۹ء سمجھا تا کہ اس کے متعلق میں کچھ بیان کروں۔اس کا تعلق چونکہ ایک عمومی اصول سے ہے جس کا اطلاق ہماری موجودہ حالت پر نئی صدی کے طلوع سے پہلے کے حالات پر بھی ہوتا ہے اس لئے یہ آیت اپنے مضمون کے لحاظ سے اس تمام صورت حال پر یکساں روشنی ڈالے گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْعِفَهُ لَةَ أَضْعَافًا كَثِيرَةً کون ہے جو خدا کو قرضہ حسنہ دے تاکہ اللہ تعالیٰ اُسے اُس کے لئے بہت بڑھا دے وَاللهُ يَقْبِضُ وَيَبْضُطُ اور اللہ تعالیٰ چیزیں وصول بھی کرتا ہے قبض بھی کرتا ہے، اُن کو کھینچتا ہے اور بحط اُن کو پھیلا بھی دیتا ہے۔قبض کا مضمون ایسا ہے جیسے مٹھی میں سے کوئی چیز انسان سمیٹ لے اور پھر مٹھی کھول کر اُس کو پھیلا دے اس کو بسط کہتے ہیں۔تو خدا تعالیٰ چیزیں سمیٹتا بھی ہے اور اُن کو بڑھا کر پھیلا کر واپس بھی کیا کرتا ہے۔وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُونَ اور اس کی طرف تم ہا لٹائے جاؤ گے۔اس آیت میں ایک اُلجھے ہوئے مضمون کو سلجھایا گیا ہے جو بسا اوقات انسانی ذہن کو پریشان کرتا ہے۔جب مومن سے خدا کی راہ میں چندہ مانگا جاتا ہے تو اپنے ایمان اور تقویٰ اور خلوص کی وجہ سے خواہ اس مضمون کی سمجھ آئے یا نہ آئے کہ خدا کو کیا ضرورت ہے۔مومن خدا کی راہ میں مالی قربانی کرتے تو ہیں لیکن بسا اوقات یہ سوال اُٹھتے ہیں اور قرآن کریم نے ان سوالات کا مختلف جگہ ذکر فرمایا ہے کہ کیا خدا غریب ہے؟ خدا کو کیا ضرورت ہے کہ مومنوں سے قربانی لے، ساری کائنات اُس کی ہے اور کیوں وہ ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ تکلیف اُٹھا کر تنگی ترشی میں بھی ہم اُس کی راہ میں کچھ خرچ کریں۔اس سوال کے مختلف جوابات قرآن کریم میں ملتے ہیں۔یہاں جو مضمون ہے یہ مضمون قانون قدرت کے حوالے سے سمجھایا گیا ہے۔فرمایا تم دنیا پر، کائنات پر غور کر و تمام کائنات خدا نے اس طرح پیدا کی ہے کہ وہ چیزوں کو پہلے سمیٹتا ہے پھر بڑھا کر واپس کرتا ہے۔زمیندارہ پر آپ غور کریں تو آپ کو یہ سارا مسئلہ سمجھ آ جائے گا۔آپ اگر زمیندارہ جانتے ہیں یا تجربہ ہے تب بھی ورنہ سُنا تو سب نے ہوا ہے کہ زمیندار اُس وقت اپنا بیج زمین میں ڈالتا ہے جب اُس کو اُس بیج کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، جب اُس کی فصل کا پھل اختتام تک پہنچ رہا ہوتا ہے، جب اُس کو کھانے کے لئے ، اپنی دیگر ضروریات کے لئے اس پیج کی براہ راست یا اُس کو بیچ کر اُس کی قیمت کی بہت