خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 2
خطبات طاہر جلد ۸ 2 خطبہ جمعہ ۶ /جنوری ۱۹۸۹ء اُن قربانیوں کی جو اس پہلی صدی میں کی گئیں۔آئندہ صدی بھی قربانیاں مانگے گی ، آئندہ صدی میں بھی قربانیاں پیش کی جائیں گی مگر جو آغاز کا نور ہے اُس کو کسی طرح بھی آئندہ آنے والی روشنیاں دھندلا نہیں سکتیں۔اب دراصل اُسی نور کی برکت ہے جو پھیلتی چلی جائے گی اور یہ دن روشن تر اور روشن تر ہوتا چلا جائے گا یہاں تک کہ تمام دنیا پر اسلام کے کامل غلبہ کی صدی طلوع ہوگی۔اس پہلو سے یہ جو پہلی صدی پر شام آئی ہے یہ کچھ اداسی کی کیفیت بھی پیدا کرتی ہے لیکن اُس کے ساتھ ہی تیز قدم بڑھانے کی طرف بھی ہمیں اُبھارتی ہے اور جیسے جیسے سورج غروب ہونے کا وقت قریب آ رہا ہے یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ کاموں کے لحاظ سے ابھی ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔بہت سے پروگرام تھے جن کی طرف میں نے بار ہا جماعت کو توجہ دلائی۔بہت سے پروگرام ہیں جواس وقت زیر عمل ہیں اور جماعت تمام دنیا میں کوشش کر رہی ہے کہ انگلی صدی کے طلوع سے پہلے پہلے ہم ان پروگراموں کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیں لیکن یہ کام اتنازیادہ ہے اور کئی جگہ ایسے خلا دکھائی دے رہے ہیں کہ سال کے آغاز پر میں سب سے پہلے جماعت احمدیہ کو دعا کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ دعاؤں کے ذریعے مدد مانگیں۔بارہا میں نے تفصیل سے جائزہ لیا ہے اور اگر چہ مایوس کسی قیمت پر کسی صورت میں بھی نہیں لیکن پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جتنی تیاری ہمیں کرنی چاہئے تھی ویسی تیاری ہم نہیں کر سکے اور اُس وقت ہمیشہ دعا کی طرف طبیعت متوجہ ہوتی ہے۔دعا دو طرح سے کرشمے دکھایا کرتی ہے۔اول یہ کہ جو کام ہم نہیں کر سکتے وقت کے لحاظ سے دُعا کی برکت سے تھوڑے وقت میں اُس سے بہت زیادہ ہو جاتا ہے جتنی عام حالات میں انسانی عقل توقع رکھتی ہے۔دوسرے دعا کی برکت سے ہماری غفلتوں اور کوتاہیوں کی پردہ پوشی ہو جاتی ہے اور اللہ تعالی گزشتہ کوتاہیوں پر بھی پردہ ڈالتے ہوئے اپنے فضل کے ساتھ ایسے ثمرات ایسے پھل عطا فرما دیتا ہے جن کے لئے ہم حقدار نہیں تھے جن کے لئے ہم نے محنت نہیں کی تھی کوشش نہیں کی تھی محض اللہ کے فضل کے ساتھ وہ سارے پھل عطا ہوتے ہیں جن کی عام حالات میں توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔تھوڑے کو وہ قبول کرتا ہے اور بہت زیادہ کر دیتا ہے یہی وہ مضمون ہے جو اس آیت میں بیان ہوا ہے جو میں نے ابھی آپ کے سامنے تلاوت کی ہے۔چونکہ اس کا مالی قربانی سے تعلق ہے اس لئے وقف جدید کے سال نو کا آغاز کے اعلان کرنے سے پہلے میں نے اس آیت کی تلاوت کرنی مناسب