خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 794 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 794

خطبات طاہر جلد ۸ 794 خطبه جمعه ۸/دسمبر ۱۹۸۹ء نہیں ہوا تھا جب حضرت مسیح موعود وفات پاچکے تھے۔اس نے کہاں سے حضرت مسیح موعودؓ کو مباہلے کا چیلنج دے دیا اس لئے ایک یہ گواہی اس سے لے کے دکھا ئیں۔پھر منظور چنیوٹی صاحب نے اعلان کیا جو جنگ لندن ۲۱ را کتوبر ۱۹۸۸ء کو شائع ہوا کہ اگلے سال ۱۵ ستمبر تک میں تو ہوں گا، قادیانی جماعت زندہ نہیں رہے گی۔اپنے اس مباہلے کے نشان سے یہ گواہی دلوا دیں کہ آج واقعی دنیا میں کہیں احمدی جماعت کا کوئی نشان باقی نہیں رہا۔پھر ۱۹ / اگست ۱۹۸۹ء کو خود ہی اس اعلان کو یاد کر کے ان کو خیال آیا کہ یہ تو دُنیا کہے گی تم جھوٹے ہو گئے تو میں کیوں نہ اعلان کر دوں کہ جماعت ختم ہو چکی ہے۔چنانچہ ۱۹ راگست ۱۹۸۹ء کوملت میں یہ خبر شائع ہوئی کہ منظور چنیوٹی صاحب نے بیان دیا ہے کہ سلطنت برطانیہ کی طرح جماعت احمدیہ کا سورج بھی غروب ہو چکا ہے۔کسی ملک میں اس کا کوئی وجود نہیں۔اب اپنے اس نئے چیلے سے جو خدا نے آپ کو نشان کے طور پر دیا ہے یہ گواہی لے دیں کہ کیا دُنیا کے کسی ملک میں احمدیت کا کوئی وجود نہیں رہا اور اپنے والدین اور اپنے دیگر بزرگوں کے متعلق خصوصیت سے گواہی دیں کہ ان کا کیا حال ہے۔پھر اخبار میں ان کا اعلان شائع ہو گیا ہے کہ مولوی جو یہ کہتے تھے کہ چھ سو احمدی، اسرائیلی فوج میں بھرتی ہیں اس کے متعلق جب اخبار نویس نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے کہا نہیں ایک بھی احمدی فلسطین میں اسرائیلی فوج میں نہیں ہے اور یہ اعلان کر کے منظور چنیوٹی کے جھوٹے ہونے پر مہر ثبوت پہلے ہی ثبت کر چکے ہیں۔ایک جھوٹی بات تو ایسی ہے جس کا شاید یہ کہیں کہ مجھے علم نہیں مگر بہر حال آپ کی دلچسپی کے لئے بیان کر دیتا ہوں۔یہ اعلان ان کا جنگ لندن ۳۰ جولائی ۱۹۸۶ء میں شائع ہوا تھا کہ یہ بات سرکاری ریکارڈ میں موجود ہے کہ ربوہ میں حکومت پاکستان کے افسروں نے چھاپہ مار کر اسلحہ کے بے شمار ذخائر کا سراغ لگا لیا ہے“۔اس لئے یہ بھی میں نے رکھا تھا کہ ان سے پوچھوں مگر چونکہ اس کا تعلق ربوہ سے ہے اس لئے کہیں گے کہ مجھے علم نہیں۔منظور چنیوٹی صاحب کسی وقت ثابت کر دیں تو ہم ان کے ممنون ہوں گے۔انہوں نے جماعت احمدیہ کے اوپر ایک یہ بہتان باندھا کہ ”قادیان عرصہ دراز سے یہ