خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 788
خطبات طاہر جلد ۸ 788 خطبه جمعه ۸/دسمبر ۱۹۸۹ء یہ ہیں معتمد صاحب جو ان لوگوں کے نزدیک میرے دست راست کہلاتے ہیں۔فوری طور پر ان کی فراغت کا فیصلہ کر کے ان کو واپس بھجوانے کا حکم دیا گیا۔اس پر انہوں نے نہایت عاجزانہ معافی مانگی اور ایک نہایت مخلص عرب دوست کو اپنا سفارشی بنایا اور انہوں نے ایک بہت ہی پُر زور سفارش کا خط لکھا اور کہا کہ یہ عدم تربیت یافتہ ہے غلطی ہوگئی ، معاف کر دیں، آئندہ سے کبھی اس قسم کی بیہودہ حرکت نہیں کرے گا۔چنانچہ میں نے ان کے اصرار پر اور کچھ اس لئے کہ ان کے والدین کی میرے دل میں بہت عزت تھی اور ہے وہ دیر سے سلسلے سے بڑے اخلاص سے وابستہ ہیں میں نے اس لئے اس کو معاف کر دیا اور دوبارہ جماعت کی خدمت پر مامور کر دیا۔ان کے سپر د کام یہ تھا کہ عربوں سے خط و کتابت کریں اور بعض مضامین کے تراجم کریں۔عربوں کی ہماری تین بڑی جماعتیں ہیں۔ایک شام میں ، ایک فلسطین میں اور ایک مصر میں۔اس کے علاوہ خدا کے فضل سے دوسرے ممالک میں بھی عرب موجود ہیں لیکن کثرت سے نہیں۔یہاں بھی بہت زیادہ بڑی تعداد میں جماعتیں تو نہیں لیکن فلسطین میں مثلاً بہت بڑی ایک جماعت ہے۔سارے کا سارا گاؤں خدا کے فضل سے احمدی ہے تو یہ تین بڑی جماعتیں ہیں جن سے خصوصیت کے ساتھ خط و کتابت کا کام ان کے سپر دتھا لیکن سب سے پہلے شام سے ہمیں اطلاع ملی کہ یہ صاحب ہم سے خط و کتابت کے اہل نہیں ہیں اور بعض ایسی باتیں لکھتے ہیں جو قابلِ اعتراض ہیں۔اس لئے مہربانی فرما کر ان کو حکم دیا جائے کہ آئندہ آپ کے درمیان ہمارے ساتھ واسطہ نہ بنیں۔چنانچہ ان کو ۱۹۸۶ء میں ہی ۲۵ مئی ۱۹۸۶ء کو تحریری حکم کے ذریعہ روک دیا گیا۔بعد ازاں فلسطین کی جماعت کی طرف سے بھی ایسے ہی شدید احتجاجی خطوط موصول ہوئے اور انہوں نے کہا کہ آپ ان سے اور کام لے لیں لیکن اپنے درمیان اور ہمارے درمیان ان کو تحریر کا رابطہ نہ بنائیں کیونکہ آپ کے نام کا پیڈ استعمال کرتے ہیں اور غلط باتیں لکھتے ہیں۔چنانچہ میں نے تحقیق کروائی تو دفتر سے بغیر اجازت کے میرا لیٹر پیڈ اُٹھا کر لے گئے تھے اور اس پر انہوں نے خط وکتابت شروع کی ہوئی تھی۔وہاں سے اس کی فوٹو کا پیز ہمیں ملیں۔چنانچہ ان کو تحریر ۱۳ جون ۱۹۸۶ء کوحکم دیا گیا کہ آئندہ آپ نے فلسطین سے بھی کوئی خط و کتابت نہیں کرنی۔ہاں اس حکم کے باوجود انہوں نے کہیں کہیں بعض لوگوں کے ساتھ جماعت کی نمائندگی میں خط و کتابت جاری رکھی۔جماعت چونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے