خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 789 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 789

خطبات طاہر جلد ۸ 789 خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۸۹ء بیدار مغز ہے اور کسی بات کو وہ چھپا نہیں رہنے دیتی اس لئے ہمیں اطلاعیں ملیں کہ یہ ابھی بھی بعض لوگوں سے خط و کتابت کر رہے ہیں اور اپنے آپ کو جماعت کا نمائندہ ظاہر کر کے خط و کتابت کرتے ہیں۔چنانچہ وکیل التبشیر نے پھر ۱/۲۰ اکتوبر ۱۹۸۶ء کو اس بات کا سختی سے نوٹس لیا اور ان کو حکم دیا کہ آئندہ آپ نے ہرگز فلسطین کے احمدیوں سے جماعت کی نمائندگی میں کوئی خط و کتابت نہیں کرنی۔پھر ۹۸۶ء میں ہی ان کی بعض اور بد عادات ظاہر ہوئیں جن میں سے کچھ تو مالی معاملات سے تعلق رکھتی ہیں اور تبشیر کو ۱۹ار اپریل ۱۹۸۶ء اور ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۶ء کو تحریر ان کو نوٹس دینے پڑے اور مجھے بھی ان کو سمجھانا پڑا کہ آئندہ اگر آپ نے اس طرح بغیر اجازت کے کوئی خرچ کیا تو میں منظور نہیں کروں گا۔اب تک میں برداشت کرتا چلا آرہا ہوں لیکن آئندہ سے یہ نخرے برداشت نہیں ہوں گے۔اس لئے پہلے تحریری اجازت لیں اپنے افسران سے پھر خرچ کریں۔پھر ایک مستقر سے یعنی جس جگہ پر مقرر تھے وہاں سے بغیر اجازت کے غائب ہونا شروع ہو گئے۔چنانچہ ۳ / دسمبر ۱۹۸۶ء تحریراً انہیں اس بات کی بھی تنبیہ کرنی پڑی۔یہ پہلے ۶ مہینے کے شگوفے ہیں جو انہوں نے یہاں چھوڑے اور جن کے اوپر جماعت نوٹس تو لیتی رہی لیکن ان سے مغفرت کا سلوک رہا۔جس کی وجہ میں نے بیان کی ہے کہ میں یہ چاہتا تھا کہ اس نو جوان کی اصلاح ہو جائے اور جس حد تک محفوظ طریقے سے اس سے کام لیا جا سکتا ہے اس سے کام لیا جائے۔۱۹۸۶ء میں ہی ان کو ایک نہیں بلکہ بار بار تنبیہات بھی کرنی پڑیں کہ آپ اپنے افسران کی نہ صرف حکم عدولی کرتے ہیں بلکہ واضح بد تمیزی سے کام لیتے ہیں اور یہ بات نا قابلِ برداشت ہے۔اس لئے آپ کو اس سے تو بہ کرنی چاہئے۔۱۹۸۷ء کے آغاز میں مصر سے بھی احتجاجی خط موصول ہوئے کہ یہ صاحب جو ہم سے خط و کتابت کر رہے ہیں، مہربانی فرما کر ان کو روک لیں آپ اور ذریعہ اختیار کر لیں لیکن ان صاحب کو بیچ میں نہ ڈالیں تو تین بڑی عرب جماعتیں ہیں اور تینوں نے احتجاج کر کے ان کو جماعت کی نمائندگی سے رکوا دیا۔یہ ہیں پرائیویٹ سیکرٹری صاحب جن کے اوپر یہ غیر احمدی ملاں جو جماعت کے معاند ہیں بڑی شوخیاں دکھا رہے ہیں اور شیخیاں بگھا رہے ہیں کہ اتنا بڑا معرکہ انہوں نے سر کیا ہے۔اس شخص کو انہوں نے قابو کر لیا ہے۔