خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 772
خطبات طاہر جلد ۸ 772 خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۸۹ء جب تک انگلستان آنے کی تقدیر یا انگلستان لائے جانے کی تقدیر ظاہر نہیں ہوئی ان امور پر ان معنوں میں تو نظر تھی کہ یہ خدا کی طرف سے عطا کردہ خوشخبریاں تھیں اور ہر احمدی کا دل مطمئن تھا کہ یقیناً یہ پوری ہوں گی لیکن کیسے ہوں گی اور انہیں پورا کرنے کے لئے مومن کو جو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے وہ ہم کیسے ادا کریں گے۔ان چیزوں پر نظر نہیں تھی نہ ان حالات میں ہوسکتی تھی۔یہاں آنے کے بعد سب سے پہلے کاموں میں سے ایک یہ کام کرنے کی توفیق ملی کہ اشترا کی مشرقی دُنیا میں جتنے ممالک ہیں ان کی زبانوں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے چھوٹے چھوٹے رسالے اور کتابیں تیار ہونا شروع ہوئیں اور قرآن کریم کے بعض مکمل ترجمے ان زبانوں میں کرنے کی توفیق ملی اور بعض زبانوں میں اقتباسات شائع کرنے کی توفیق ملی۔اسی طرح احادیث نبویہ میں سے منتخب احادیث جو ہم نے سوچا کہ اس زمانے کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے اور انسان کی ضرورتوں کے لحاظ سے پیاس بجھانے کے لئے اہمیت رکھتی ہیں ان کا ترجمہ کرنے کی اور ان کی اشاعت کی توفیق ملی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت سے اقتباسات جو قرآن کریم کی آیات اور احادیث کے مضمون سے مطابقت رکھتے تھے اور انہیں کی تفسیر تھے ان کی اس نقطہ نگاہ سے چنے کی توفیق ملی کہ ایک پڑھنے والا جب قرآن کریم کے مضامین سے گزر کر احادیث کے مضامین سے ہوتا ہوا حضرت مسیح موعود کے اقتباسات تک پہنچتا ہے تو اسے پہلی دونوں تحریروں کا زیادہ لطف آنے لگے اور اس کا ذہن زیادہ عمدگی کے ساتھ ان کے مطالب کو پاسکے اور اس کے اندر یہ احساس قوی تر ہوتا چلا جائے کہ قرآن کریم کی تفسیر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کی تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں ہے۔تو اس طرح ان کے درمیان ایک تطبیق پیدا کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔کسی حد تک اس کی توفیق ملی اور پھر ان کے تراجم کئے گئے اور کتابیں اشاعت کے لئے تیار ہو ئیں۔یہ سب کچھ ہو رہا تھا لیکن کچھ علم نہیں تھا کہ ان کتابوں کو ، اس لٹریچر کوان ملکوں تک پہنچانے کے سامان کیسے میسر آئیں گے۔صرف یہی نہیں اور بھی بہت سے مضامین پر رسالے شائع کئے گئے تراجم تیار کئے گئے اور ان کی طباعت کروائی گئی۔آپ شاید ہی اندازہ کرسکیں کہ یہ کام کتنا مشکل تھا اور کتنا ذمہ داری کا کام تھا۔کیونکہ صحیح آدمی کی تلاش کرنا اور اس سے رابطہ کرنا اور اس کو تیار کرنا کہ ان کتب کا ترجمہ کرے یا ان رسائل کا ترجمہ کرے اور پھر یہ نگاہ رکھنا کہ وہ ترجمہ