خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 773
خطبات طاہر جلد ۸ 773 خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۸۹ء درست اور اصل کے مطابق ہے جب کہ ہم خود ان زبانوں سے نابلد ہیں۔اس کے لئے متبادل ماہرین کی تلاش کرنا، ایسے جن میں سے بہتوں کی عربی پر بھی نظر ہو اور اسلام کی اصطلاحات سے بھی واقف ہوں۔یہ ایک بہت ہی وسیع کام تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے آغاز ہی سے اس کو آسان فرما نا شروع کر دیا۔اسلام آباد میں ہمارے ایک نوجوان روسی زبان سیکھ رہے تھے ان کے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات ڈال دی کہ وہ اپنی زندگی اسلام کے لئے وقف کر دیں۔چنانچہ انہوں نے وقف کیا اور میں نے اسے قبول کر لیا اور پھر وہ یہاں انگلستان تشریف لے آئے اور اس کے بعد سے مسلسل ان کے ذریعے سے ہمارے رابطے وسیع ہونے شروع ہوئے۔پہلا کام روسی زبان میں قرآن کریم کے ترجمے کا کام تھا اور اس کو ہم سب سے زیادہ اہمیت دے رہے تھے۔ان کا نام خاور صاحب ہے۔اگر چہ روسی زبان تو یہ کچھ سیکھ چکے تھے لیکن اتنا عبور کہ قرآن کریم کا ترجمہ کر سکین اور ذمہ داری سے کر سکیں یہ تو بہت بڑی بات تھی لیکن ابتدائی کاموں میں مرد اور مددگار بہت ثابت ہوئے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس کا ایک اور سامان پیدا فرما دیا اور یہ چند مثالیں جو آپ کے سامنے رکھتا ہوں، اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ کس طرح خدا کی تقدیر کام کرتی ہے۔بندوں کے ہاتھ حرکت تو کرتے ہیں مگر خدا کے ہاتھوں میں بندوں کے قدم آگے تو اُٹھتے ہیں لیکن خدا کی طاقت سے آگے اُٹھتے ہیں اور تمام وہ امور جو دین کے لئے سر انجام دینے کی توفیق ملاتی ہے ان پر جب آپ آفاقی نظر ڈالتے ہیں تو آپ کو جابجا خدا تعالیٰ کی تقدیر کار فرما دکھائی دیتی ہے۔نظر آنے لگتی ہے کہ کس طرح کسی موقع پر خدا کی تقدیر نے کیا سامان پیدا فرمایا؟ چنانچہ انگلستان میں روسی زبان کا ایسا ماہر ملنا جو عربی کا بھی ماہر ہو یا دینی اصطلاحات کو سمجھتا ہو یہ بہت مشکل کام تھا لیکن ایک اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ ہندوستان سے ایک ایسا ماہر احمدی عالم مل گیا جس نے روس میں روسی زبان میں پی ایچ ڈی کیا تھا۔ان کے والد صاحب اتفاق سے ان دنوں میں کراچی تشریف لائے جن دنوں میں میں بھی وہاں گیا ہوا تھا اور ان سے چند مجالس ہوئیں۔وہ ویسے تو بڑے مخلص فدائی آدمی تھے لیکن اس کے بعد ان کے دل میں غیر معمولی طور پر یہ جذبہ پیدا ہوا کہ میرا یہ بیٹا جو روسی زبان سیکھ کے آیا ہے یہ بھی دین کی خدمت میں آئے۔چنانچہ انہوں نے مجھے خط لکھنے شروع کئے کہ یہ تو دین سے بالکل بے بہرہ ہو چکا ہے اور خالی ہو کے واپس لوٹا ہے اور میری بڑی تمنا ہے کہ کسی طرح یہ خدمت دین میں کام آئے۔چنانچہ ان کے لئے دُعا کی بھی