خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 769
خطبات طاہر جلد ۸ 769 خطبه جمعه ۲۴ / نومبر ۱۹۸۹ء منزلیں بن ہی نہیں سکتیں۔اس لئے خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنات کو اپنے آئندہ کے پروگراموں میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کو دینی چاہئے کہ ان کی مجالس کے اندر ایک بھی فرد نہ رہے جو نماز کا ترجمہ نہ جانتا ہوا اور پنجوقتہ نماز پر قائم نہ ہو۔باقی ساری باتیں انشاء اللہ رفتہ رفتہ سکھائی جائیں گی۔میرا پروگرام یہ ہے کہ تمام مجالس پر اس پہلو سے نظر رکھوں اور ان کی رپورٹوں کو سر دست مختصر بنا دوں۔ان سے یہ توقع رکھوں کہ آپ لمبی تفصیلی رپورٹیں مجھے نہ کریں جن سے میں خود براہ راست گزر نہ سکوں بلکہ مجھ تک جو آپ کام پہنچانا چاہتے ہیں وہ مختصر کر دیں اور بجائے اس کے کہ یہ بتائیں کہ آپ نے کتنے پیر لگائے اور کتنی محنتیں کیں اور کس طرح ان پودوں کو تناور درختوں میں تبدیل کیا مجھے صرف یہ بتا دیا کریں کہ پھل کتنے لگے۔پیڑوں سے مجھے غرض نہیں ہے۔تو پھلوں کے لحاظ سے ان پانچ عادات کے متعلق رپورٹ مل جائے کہ آپ نے کتنے احمدیوں میں یہ عادات راسخ کرنے میں کام کیا ہے، کتنے بچوں نے ، بڑوں نے ، مردوں اور عورتوں نے عہد کیا ہے کہ وہ آئندہ جھوٹ نہیں بولیں گے اور اس سلسلے میں آپ نے کیا کارروائیاں کی ہیں۔سر دست یہ بتائیں صرف یعنی نظر رکھنے کے لئے کیا کارروائیاں کی ہیں۔عادتوں کو مزید راسخ کرنے کے لئے کیا کارروائیاں کی ہیں۔اتنا حصہ بے شک مزید بھی بتا دیں جو پھلوں کی حفاظت سے تعلق رکھنے والا حصہ ہے۔پھل پیدا کریں ، ان کی حفاظت کا انتظام کریں اور وہ حفاظت کی جو کارروائیاں ہیں مختصر وہ اپنی رپورٹ میں بے شک لکھ دیا کریں۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ پتا لگ جایا کرے کہ عرصہ زیر رپورٹ میں کتنے ایسے احمدی بچے، بڑے تھے جو نماز پنجوقتہ نہیں پڑھتے تھے جن کو آپ نے نماز پنجوقتہ کی عادت ڈالی ہے۔کیا کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے اور آپ نے ایک یا دو نمازوں کی عادت ڈالی ہے۔صرف یہ تعداد کافی ہے۔انگلی رپورٹ میں ان کا ذکر نہ ہو بلکہ مزید جو آپ نے اس میں شامل کئے ہوئے ہیں ان کا ذکر ہو۔یا اگر دو پڑھتے تھے اور تین پڑھنے لگ گئے تو ان کا ذکر ہو سکتا ہے اور اسی طرح یہ ذکر ہو کہ کتنے ایسے احمدی تھے جن کو نماز کا ترجمہ نہیں آتا تھا اور ان کو آپ نے کسی حد تک ترجمہ پڑھایا ہے۔اس کے بھی مختلف مراحل ہیں۔کسی کو ترجمہ شروع کر وا دیا گیا ہے، کسی کا ترجمہ مکمل ہو گیا ہے۔تو دوحصوں میں بیان کیا جا