خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 768 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 768

خطبات طاہر جلد ۸ 768 خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۸۹ء دوسرا پہلو مختصر عبادات کا پہلو ہے۔اس سلسلے میں میں بارہا جماعت کو پہلے بھی متوجہ کر چکا ہوں کہ ابتدائی چیزوں کی طرف بہت ہی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور ان میں سب سے ابتدائی اور سب سے اہم نماز ہے۔ہماری نمازوں میں ابھی کئی قسم کے خلا ہیں جو بلند تر منازل سے تعلق رکھنے والے خلا ہیں ان کا میں تفصیل سے ذکر کر چکا ہوں لیکن اب میں آپ کو اس بنیادی کمزوری کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ ہمارے اندر آج کی نسلوں میں بھی بہت سے بچے ایسے ہیں جن کو پانچ وقت نماز پڑھنے کی عادت نہیں ہے۔بہت سے نوجوان ایسے ہیں جن کو پانچ وقت نماز پڑھنے کی عادت ہے۔بہت سے بوڑھے ایسے ہیں جن کا پانچ وقت نماز پڑھنے کی عادت نہیں ہے اور یہ بات ہمیں روز مرہ نظر آنی چاہئے اور ہمیں اس سے بے چین ہو جانا چاہئے۔تنظیمیں کیوں اس سے بے چین نہیں ہوتیں، تنظیمیں کیوں یہ کمزوری نہیں دیکھتیں اور کیوں خصوصیت کے ساتھ ان باتوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتیں۔نماز پڑھنا صرف کافی نہیں نماز ترجمہ کے ساتھ پڑھنا بہت ضروری ہے اور نماز کا ترجمہ ہر احمدی کو آنا چاہئے خواہ وہ بچہ ہو ، جوان ہو یا بوڑھا، مرد ہو یا عورت ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ نماز کا ترجمہ جانتا ہو اور اس حد تک یہ ترجمہ رواں ہو کہ جب وہ نماز پڑھے تو سمجھ کر نماز پڑھے۔عبادت کے مضمون میں تو بہت ہی وسیع باتیں ہیں۔بہت سی باتیں ہیں جو اپنے اندر پھر اور بہت سی منازل رکھتی ہیں لیکن سب سے بنیادی بات یہی ہے کہ ہم اپنی جماعت کو مکمل طور پر نماز پر قائم کر دیں۔کسی اور نیکی کی اتنی تلقین قرآن کریم میں آپ کو نہیں ملے گی جتنی قیام عبادت کی تلقین ہے، قیام صلوة کی تلقین ہے اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کی تلقین بھی ہمیشہ اس کے ساتھ وابستہ کی گئی ہے۔پس قرآن کریم کی تعلیم کی رویہی ہے کہ ہم اپنی عبادات کو کھڑا کر دیں اور اپنے پاؤں پر مضبوطی کے ساتھ ان کو اس طرح مستحکم کر دیں کہ کوئی ابتلا، کوئی زلزلہ، کوئی مشکل ہماری نمازوں کو گرانہ سکے۔اس کے لئے پہلا بنیادی قدم یہی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص نماز باترجمہ جانتا ہو اور نماز پانچ وقت پڑھنے کا عادی ہو اور ساتھ ہی دوسری چیز اس کے ساتھ ملانے والی ضروری ہے کہ صبح تلاوت کی عادت ڈالیں۔ہر شخص جو نماز پڑھتا ہے اس کو یہ عادت پڑ جائے کہ کچھ نہ کچھ تلاوت ضرور کرے۔یہ بنیا دا گر قائم ہو جائے تو اس کے اوپر پھر عظیم الشان عبادات کی عمارتیں قائم ہوسکتی ہیں۔منازل نئی سے نئی بن سکتی ہیں۔نئی رفعتیں عبادتوں کو حاصل ہوسکتی ہیں۔مگر یہ بنیاد نہ ہوں تو اوپر کی