خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 765 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 765

خطبات طاہر جلد ۸ 765 خطبه جمعه ۲۴ / نومبر ۱۹۸۹ء کرنے کی طرف مائل کریں۔ہر وہ شخص جو مصیبت زدہ ہے کسی تکلیف میں مبتلا ہے یہ احساس پیدا کریں کہ اس کی مصیبت دور ہونی چاہئے اس کی تکلیف دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔خدمت کا جذ بہ ان کے اندر پیدا کریں بلکہ اس کے ساتھ مواقع بھی مہیا کر یں۔یہاں عام طور پر ایسے مواقع میر نہیں آتے یعنی روز مرہ کی زندگی میں کیونکہ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں امیروں اور غریبوں کے درمیان فاصلے بہت ہیں۔یا درمیانے طبقے کے لوگوں کے درمیان اور غریبوں کے درمیان بہت فاصلے ہیں لیکن ہمارے ملکوں میں یعنی غریب ملکوں میں تیسری دنیا کے ملکوں میں تو غریب اور امیر ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ہر روز ان کی گلیوں، ان کے بازاروں میں غربت تکلیف اٹھاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور محسوس ہوتی ہے۔وہاں تو نہ صرف یہ کہ یہ کام بہت آسان ہے کہ عملاً بچوں کو بچپن ہی سے لوگوں کی تکلیفیں دور کرنے کی عادت ڈالی جائے بلکہ مشکل بھی ہے کہ تکلیفیں اتنی ہیں کہ انسان کے حد استطاعت سے بہت بڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ایسے ہی ملکوں کے متعلق غالباً ایسے ہی ماحول میں غالب نے یہ کہا تھا کہ : کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند کس کی حاجت روا کرے کوئی (دیوان غالب صفحه : ۳۳۰) لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ چونکہ حاجتیں پوری کرنا ہمارے بس سے بڑھ گیا ہے اس لئے ہم حاجت پوری کرنا چھوڑ دیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کس کس کی کریں دل یہ چاہتا ہے کہ ہر ایک کی کریں۔پس جس کسی کی بھی جتنی حاجت بھی آپ دور کر سکتے ہیں خود بھی کریں اور بچوں سے بھی کروائیں اور بچپن میں اگر اس کی عادت پڑ جائے تو اس کے نتیجے میں بچہ جو لذت محسوس کرتا ہے وہ اس کی نیکی کو دوام بخش دیتی ہے اور پھر بڑے ہو کر خدام الاحمدیہ میں جا کر بالجنہ کی بڑی عمر کو پہنچ کر پھر ان تنظیموں کو ان میں محنت نہیں کرنی پڑے گی اور بنے بنائے با اخلاق افراد قوم کو میسر آئیں گے جو پھر بڑے بڑے کام کرنے کے لئے اپنے آپ کو مستعد اور تیار پائیں گے۔آخر پر پانچویں بات آج کے خطاب کے لئے جو میں نے چنی ہے وہ مضبوط عزم اور ہمت