خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 766 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 766

خطبات طاہر جلد ۸ 766 خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۸۹ء ہے۔مضبوط عزم اور ہمت اور نرم دلی اکٹھے رہ سکتے ہیں۔اگر یہ اکٹھے نہ ہوں تو ایسا انسان کمزور تو ہوگا با اخلاق نہیں ہو گا۔نرم دلی جب آپ پیدا کرتے ہیں تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ایسا نرم دل انسان اور ایسا نرم خو انسان مشکلات کے وقت گھبرا جائے اور مصائب کا سامنا کرنے کی طاقت نہ پائے۔حضرت ابوبکر صدیق اکبر ہمیشہ ہمیش کے لئے تاریخ میں ایک کامل نمونہ کے طور پر پیش کئے جاسکتے ہیں۔یہ نمونہ اگر چہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ہی سے حاصل کیا مگر آپ کی زندگی میں ایک ایسا مقام آیا جہاں اس خلق نے نمایاں ہو کر ایک ایسا عظیم الشان کردار ادا کیا ہے کہ جس کے نتیجے میں ہمیشہ کے لئے ہم آپ کی مثال دنیا کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔بے حد نرم خو اور نرم دل ہونے کے با وجود جب اسلام پر آپ کی خلافت کے پہلے دن ہی عظیم مصیبت واقع ہوئی ہے اور مشکلات کا دور شروع ہوا ہے تو وہ شخص جو دنیا کی نظر میں اتنا نرم دل تھا، اتنا نرم خو تھا کہ معمولی سی تکلیف سے ہی اس کے آنسو رواں ہو جایا کرتے تھے۔کسی کی چھوٹی سی تکلیف بھی وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔اتنے حیرت انگیز عزم کے ساتھ ان مشکلات کے مقابل پر کھڑا ہو گیا ہے کہ جیسے سیلاب کے سامنے کوئی عظیم الشان چٹان کھڑی ہو جاتی ہے۔ایک ذرہ بھی اس کے سرکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔اس طرح حضرت ابو بکر صدیق نے اس وقت اپنے نرم دل سے عظمت کا ایک پہاڑ نکلتا ہوا دکھایا دنیا کو۔پس نرم دلی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان مشکلات کے وقت کمزور ہو یا بڑھتی ہوئی مشکلات کے سامنے ہمت ہار جائے۔پچپن سے یہ خلق پیدا کرنا چاہئے کہ ہم نے شکست نہیں کھانی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ جو فقرہ ہے ایک عظیم الشان فقرہ ہے جو آپ کے اس عظیم خلق پر روشنی ڈالتا ہے کہ:۔” میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں بہت ہی بلند تعلیم ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عظیم خلق پر روشنی ڈالنے والا یہ ایک بہت ہی پیارا فقرہ ہے کہ:۔” میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں“ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وابستہ ہونے والوں کی سرشت میں بھی ہرگز ناکامی کا خمیر نہیں ہونا چاہئے اور یہ عزم اور ہمت بچپن ہی سے پیدا کئے جائیں تو پیدا ہوتے ہیں۔وہ