خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 72
خطبات طاہر جلد ۸ 72 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۹ء لوٹنے نکلے تھے وہ امن وسکون بیکساں خود انہی کے لٹ گئے حسن و شباب زندگی ( کلام محمود صفحه: ۱۵۵) تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بعض دفعہ انسان کے منہ پر بعض اشعار جاری ہو جاتے ہیں اور خاص طور پر ایسی کیفیت میں جب جاری ہوں جب انسان بالا رادہ ان باتوں کو یا اس مضمون کو سوچ نہ رہا ہو تو یہ باتیں ایک پیغام کا رنگ رکھتی ہیں لیکن اُن کو الہام نہیں کہا جاسکتا۔الہام مختلف چیز ہے جو بڑی وضاحت کے ساتھ اور صفائی کے ساتھ دل پر نازل ہوتا ہے اور اس میں انسان کے لئے طلبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔تو یہ جو بھی بات تھی میں تو بہر حال ایک لمبے عرصے سے اس نظم کو نہ پڑھا ، نہ یہ شعر میرے ذہن میں تھے، نہ رات کو سوتے ہوئے یہ مضمون میرے ذہن میں تھا۔اس لئے میں یہی سمجھتا ہوں کہ خدا نے ہمیں دعائیہ رنگ میں اس طرف متوجہ فرمایا ہے۔تو ساری جماعت اس عرصے میں یہ دعا بھی کرے کہ اب ان کی کتاب زندگی کا آخری باب ختم ہو اور ان کا حباب زندگی جس نے دنیا کو دھوکا دیا ہوا ہے حقیقت کا لیکن محض ہوا ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں وہ پھٹ جائے اور دنیا ان کی حقیقت کو دیکھ لے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ جماعت کو ان کی آنکھوں کے سامنے بیش از پیش ترقیات عطا فرماتا چلا جائے جو ان کی امنگوں کے تو بالکل برعکس ہوں گی مگر دعا یہ کریں کہ ہماری اُمنگوں سے بھی بہت بڑھ کر ہوں۔تو یہ جو وقت بقیہ ہے یہ دعاؤں میں صرف کرنا چاہئے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں خاص طور پر اس دور میں غیر معمولی اثر دکھانے والی ثابت ہوں گی۔اس سلسلہ میں ایک دعا یہ بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو نفرتوں سے پاک رکھے۔ایک لمبی جدوجہد میں سے ہم گزر رہے ہیں، گزر کے آئے ہیں اور جو شدید معاندانہ کوششیں جماعت کے خلاف کی جارہی ہیں اُنہوں نے لازماً اس عرصے میں جماعت کے دلوں پر کوئی اثر چھوڑا ہے اور یہ کوششیں ابھی جاری ہیں۔اس لئے میں جانتا ہوں کہ انسان کمزور ہے اور بعض دفعہ ان معاندانہ کوششوں کے نتیجے میں اُس کے دل میں نفرت اثر پذیر ہو جاتی ہے۔نفرت اُس کے دل پر گہرے داغ ڈال جاتی ہے۔مومن کی زندگی کو نفرتوں سے پاک ہونا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ نہیں فرمایا کہ چاہئے نفرت بدوں سے بلکہ فرمایا ہے: