خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 764
خطبات طاہر جلد ۸ 764 خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۸۹ء بڑے ہو کر تو اس کے بہت ہی عظیم الشان نتائج نکلتے ہیں۔وہ لوگ جن کو چھوٹے چھوٹے نقصانوں کی پرواہ نہیں ہوتی جب وہ تجارتیں کرتے ہیں تو اپنی طرف سے وہ حوصلہ دکھا رہے ہوتے ہیں کہ اچھا یہ ہو گیا کوئی فرق نہیں پڑتا ، اچھا وہ نقصان ہو گیا کوئی فرق نہیں پڑتا ہم اور آگے کمالیں گے۔یہ جہالت کی باتیں ہیں اچھے تاجر وہی ہوتے ہیں جو چھوٹے سے چھوٹا نقصان بھی برداشت نہ کریں اور حوصلہ کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اپنے نقصان کو آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھیں اور روکنے کی کوشش نہ کریں۔چوتھی بات غریب کی ہمدردری اور دکھ دور کرنے کی عادت ہے۔یہ بھی بچپن ہی سے پیدا کرنی چاہئے۔جن بچوں کو نرم مزاج مائیں غریب کی ہمدردی کی باتیں سناتی ہیں اور غریب کی ہمدردی کا رجمان ان کی طبیعتوں میں پیدا کرتی ہیں وہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مستقبل میں ایک عظیم الشان قوم پیدا کر رہی ہوتی ہیں۔جو خَيْرَ أُمَّةٍ بنے کی اہل ہو جاتی ہیں لیکن وہ مائیں جو خودغرضانہ رویہ رکھتی ہیں اور اپنے بچوں کو ان کے اپنے دکھوں کا احساس تو دلاتی رہتی ہیں غیر کے دکھ کا احساس نہیں دلاتی وہ ایک خود غرض قوم پیدا کرتی ہیں جو لوگوں کے لئے مصیبت بن جاتی ہیں۔اس لئے انسانی ہمدردی پیدا کرنا نہ صرف نہایت ضروری ہے بلکہ اس کے بغیر آپ اپنے اس اعلیٰ مقصد کو پا نہیں سکتے جس کے لئے آپ کو پیدا کیا گیا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( آل عمران: 11) تم دنیا کی بہترین امت ہو جس کو خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے فوائد کے لئے پیدا فرمایا ہے اس لئے ہم اپنی زندگی کا قومی مقصد کھو دیں گے اگر ہم بچپن ہی سے اپنی اولا د کولوگوں کی ہمدردی کی طرف متوجہ نہ کریں اور عملاً ان سے ایسے کام نہ لیں یا ان کو ایسے کام نہ سکھائیں جس کے نتیجے میں غریب کی ہمدردی ان کے دل میں پیدا ہو اور اس کی لذت یابی بچپن ہی سے شروع ہو جائے۔لذت یابی سے مراد میری یہ ہے کہ اگر کسی بچے سے کوئی ایسا کام کروایا جائے جس سے کسی کا دکھ دور ہو تو اس کو ایک لذت محسوس ہوگی۔اگر محض زبانی بتایا جائے تو وہ لذت محسوس نہیں ہوگی اور جب تک نیکی کی لذت محسوس نہ ہو اس وقت تک نیکی دوام نہیں پکڑا کرتی اس وقت تک یہ محض نصیحت کی باتیں ہیں۔اس لئے اس کے دو پہلو ہیں ایک تو آپ اپنے بچوں کو اچھی کہانیاں سنا کر سبق آموز نصیحت کر کے یا سبق آموز واقعات سنا کر غریبوں کی ہمدردی کی طرف مائل کریں دکھ والوں کے دکھ دور