خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 761
خطبات طاہر جلد ۸ بڑے بڑے واقعات رونما ہو جاتے ہیں۔761 خطبه جمعه ۲۴ / نومبر ۱۹۸۹ء تیسری چیز وسعت حوصلہ ہے۔بچپن ہی سے اپنی اولا دکو یہ سکھانا چاہئے کہ اگر تھوڑی سی تمہیں کسی نے کوئی بات کہی ہے یا کچھ تمہارا نقصان ہو گیا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں اپنا حوصلہ بلند رکھو اور یہ حوصلہ کی تعلیم بھی زبان سے نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر اپنے عمل سے دی جاتی ہے۔بعض بچوں سے نقصان ہو جاتے ہیں، کوئی گھر کا برتن ٹوٹ گیا کوئی سیاہی کی دوات گر گئی، کھانا کھاتے ہوئے پانی کا گلاس الٹ گیا اور ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر میں نے دیکھا ہے کہ بعض ماں باپ برافروختہ ہو کر بچوں کے اوپر برس پڑتے ہیں، ان کو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں، چپیڑ میں مارتے ہیں اور کئی طرح کی سزائیں دیتے ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ جن قوموں میں یا جن ملکوں میں ابھی تک ان کا ایک طبقہ یہ توفیق رکھتا ہے کہ وہ نوکر رکھے وہاں نوکروں کے ساتھ تو اس سے بھی بہت بڑھ کر بدسلوکیاں ہوتی ہیں۔تو ان جگہوں میں جہاں نوکروں سے بدسلوکیاں ہو رہی ہوں ، ان گھروں میں جہاں بچوں سے بدسلوکیاں ہو رہی ہوں وہاں آئندہ قوم میں بڑا حوصلہ پیدا نہیں ہوسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو اپنے بچوں کی تربیت کی وہ محض کلام کے ذریعے نہیں کی بلکہ اعلیٰ اخلاق کے اظہار کے ذریعے کی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ جب بچے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک بہت ہی قیمتی مقالہ جو آپ نے تحریر فرمایا تھا اور اس کو طباعت کے لئے تیار فرمایا تھاوہ آپ نے کھیل کھیل میں جلا دیا اور سارا گھر ڈرا بیٹھا تھا کہ اب پتا نہیں کیا ہوگا اور کیسی سزا ملے گی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو علم ہوا تو آپ نے فرمایا کوئی بات نہیں خدا اور توفیق دے دے گا۔ال حوصلہ اپنے عمل سے پیدا کیا جاتا ہے اور وہ ماں باپ جن کے دل میں حوصلے نہ ہوں وہ اپنے بچوں میں حوصلے پیدا نہیں کر سکتے اور نرم گفتاری کا بھی حوصلے سے بڑا گہرا تعلق ہے۔چھوٹے صلے ہمیشہ بدتمیز زبان پیدا کرتے ہیں۔بڑے حوصلوں سے زبان میں بھی تحمل پیدا ہوتا ہے اور زبان کا معیار بھی بلند ہوتا ہے۔پس محض زبان میں نرمی پیدا کرنا کافی نہیں جب تک اس کے ساتھ حوصلہ بلند نہ کیا جائے اور وسیع حوصلگی جماعت کے لئے آئندہ بہت ہی کام آنے والی چیز ہے۔اس کے غیر معمولی فوائد ہمیں