خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 759
خطبات طاہر جلد ۸ 759 خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۸۹ء ایسے بچے جو بچے ہوں اگر وہ بعد میں لجنہ کی تنظیم کے سپرد کئے یا خدام الاحمدیہ کی تنظیم کے سپرد کئے جائیں ان سے وہ ہر قسم کا کام لے سکتے ہیں کیونکہ سچ کے بغیر وہ Fiber میسر نہیں آتا وہ تانا با نانہیں ملتا جس کے ذریعے آپ بوجھ ڈال سکتے ہیں یا منصوبے بنا کر ان کو ان میں استعمال کر سکتے ہیں۔جھوٹی قو میں کمزور ہوتی ہیں ان کے اندر اعلیٰ قدریں برداشت کرنے کی طاقت ہی نہیں ہوا کرتی لیکن یہ ایک بڑا لمبا تفصیلی مضمون ہے اس کو آپ فی الحال نظر انداز فرمائیں۔یہ یقین رکھیں کہ سچ کے بغیر کسی اعلیٰ قدر کی کسی اعلیٰ منصوبے کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔اس لئے جماعت احمدیہ میں بچپن سے ہی سچ کی عادت ڈالنا اور مضبوطی سے اپنی اولادوں کو سچ پر قائم کرنا نہایت ضروری ہے اور جو بڑے ہو چکے ہیں ان پر اس پہلو سے نظر رکھنا اور ایسے پروگرام بنانا کہ بار بار خدام اور انصار اور لجنات اس طرف متوجہ ہوتی رہیں کہ سچائی کی کتنی بڑی قیمت ہے اور کتنی بڑی جماعت کو اس وقت اور دنیا کو جماعت کی وساطت سے ضرورت ہے۔دوسرا پہلو تربیت کا نرم اور پاک زبان استعمال کرنا اور ایک دوسرے کا ادب کرنا ہے۔یہ بھی بظاہر چھوٹی سی بات ہے ابتدائی چیز ہے لیکن جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے وہ سارے جھگڑے جو جماعت کے اندر جی طور پر پیدا ہوتے ہیں یا ایک دوسرے سے تعلقات میں پیدا ہوتے ہیں ان میں جھوٹ کے بعد سب سے بڑا دخل اس بات کا ہے کہ بعض لوگوں کو نرم خوئی کے ساتھ کلام کرنا نہیں آتا۔ان کی زبان میں درشتگی پائی جاتی ہے۔ان کی باتوں اور طرز میں تکلیف دینے کا ایک رجحان پایا جاتا ہے جس سے بسا اوقات وہ باخبر ہی نہیں ہوتے۔جس طرح کانٹے دکھ دیتے ہیں اور ان کو پتا نہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں اسی طرح بعض لوگ روحانی طور پر سوکھ کے کانٹے بن جاتے ہیں اور ان کی روزمرہ کی باتیں چاروں طرف دکھ بکھیر رہی ہوتی ہیں، تکلیف دے رہی ہوتی ہیں اور ان کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ایسے اگر مرد ہوں تو ان کی عورتیں بے چاری ہمیشہ فلموں کا نشانہ بنی رہتی ہیں اگر عورتیں ہوں تو ان مردوں کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔یہ بات بھی ایسی ہے جس کو بچپن سے ہی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔گھر میں بچے جب ایک دوسرے سے کلام کرتے ہیں اگر وہ آپس میں ادب اور محبت سے کلام نہ کریں۔اگر چھوٹی چھوٹی بات پر تو تو میں میں ہو اور جھگڑے شروع ہو جائیں تو آپ یقین جانیں کہ آپ ایک گندی نسل پیچھے چھوڑ کر