خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 756 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 756

خطبات طاہر جلد ۸ 756 خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۸۹ء نے بار ہا پہلے توجہ دلائی ہے ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پہلی صدی سے دور ہورہے ہیں۔یعنی زمانے اور وقت کے لحاظ سے دور ہورہے ہیں لیکن عین ممکن ہے بلکہ قرآن کریم نے اس کی معین پیشگوئی بھی فرمائی ہے کہ زمانے کی دوری پائی جاسکتی ہے، عبور ہوسکتی ہے اگر اخلاق کو دور نہ ہونے دیا جائے ، اگر اعمال کو دور نہ ہونے دیا جائے۔واخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمع : ٤) میں یہی تو پیغام ہے اور یہی تو خوشخبری ہے جس کو پورا ہوتے دیکھ کر ہمارے ایمان پھر زندہ ہوئے ہیں۔پس بہت ہی اہم بات ہے۔ہم نے آخرین ہو کر قرآن کریم کی اس پیش گوئی کا مصداق بنتے ہوئے قطعی طور پر یہ دیکھ لیا اور دنیا پر ثابت کر دیا کہ زمانے کی دوری کو اخلاق کی قربت کے ذریعے مٹایا جا سکتا ہے اور نیک اعمال کے نتیجے میں زمانے کے فاصلے ماضی میں بھی طے ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں بھی طے ہو سکتے ہیں۔پس اس پہلو سے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ہر صدی کے قدم پر یہ دیکھیں کہ ہمارا قدم پچھلی صدی کے ساتھ ملا ہوا ہے یا نہیں اور ہمارا اخلاقی اور عملی فاصلہ کہیں بڑھ تو نہیں رہا۔پس آگے بڑھنا دو طرح سے ہوگا۔ایک زمانے میں آگے بڑھناوہ تو ایسی مجبوری ہے جس پر کسی کا کوئی اختیار نہیں اور ایک آگے بڑھنا یہ بھی ہو سکتا ہے جیسے تو میں بظاہر آگے بڑھتی ہیں لیکن بنیادی طور پر انحطاط کا شکار ہو جاتی ہیں۔اخلاقی قدروں کے لحاظ سے انحطاط کا شکار ہو جاتی ہیں۔وہ آگے بڑھنا تو تنزل کی علامت ہے اس پہلو سے ہم نے آگے نہیں بڑھنا بلکہ واپس جانا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی جو سب سے بڑا معجزہ دکھایا ، جو سب سے عظیم الشان کارنامہ کر کے دکھایا وہ واپسی کا کارنامہ ہے آگے بڑھنے کا کارنامہ نہیں۔تیرہ سو سال کے فاصلے حائل تھے۔کس طرح ایک ہی جست میں آپ اس زمانے میں جا پہنچے جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا زمانہ تھا۔پس ہر صدی کی زمانی جست کے ساتھ ہمیں ایک واپسی کی جست بھی لگانی ہوگی اور بڑے معین فیصلے اور بڑے قطعی فیصلے کے ساتھ ایسا پروگرام طے کرنا ہوگا کہ جب ہم وقت میں آگے بڑھیں تو اخلاقی اور اعمالی قدروں میں واپس جارہے ہوں۔اس پہلو سے اس دور میں جب میں چاروں طرف دیکھتا ہوں تو جماعت کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ اور بھی مسائل بڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے تیزی سے