خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 752 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 752

خطبات طاہر جلد ۸ 752 خطبہ جمعہ ۷ ارنومبر ۱۹۸۹ء کے منکرین سے ہوا کرتا ہے اور اس سلوک میں سب سے نمایاں سلوک یہ ہے کہ كَتَبَ اللهُ لَأَغْلِبَنَّ آنَا وَ رُسُلِي (المجادلہ: (۲۲) زور جتنا مرضی لگا کے دیکھ لو تم دن بدن ہارتے چلے جاؤ گے اور میرے لوگ جو محمد مصطفی میں ان کے ساتھ ہیں وہ غلبہ پاتے چلے جائیں گے۔یعنی الفاظ تو یہ ہیں اَنَا وَ رُسُلِی میں اور میرا رسول لازماً غالب آئیں گے مگر رسول کے اندر ساری جماعت شامل ہوتی ہے پس یہ ہے وہ سلوک جو دشمن سے ہوتا ہے کہ وہ پورا زور لگاتا ہے اور وہ زور لگانے کے با وجود دن بدن نا کام اور نامراد مرتا چلا جاتا ہے۔پھر قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ دن بدن ان کی زمینیں تنگ ہوتی چلی جارہی ہے۔یعنی دوسرے معنوں میں محمد مصطفی ﷺ کی زمین وسیع تر ہوتی چلی جاتی ہے۔کون سا دنیا میں ایسا مقام ہے جہاں تم احمدیت کی زمین تنگ کر سکے ہو۔ہاں ہر جگہ مقابل پر تمہاری زمین تنگ ہوتی گئی ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک دن بھی ایسا نہیں آیا جہاں جماعت کے پھیلاؤ کو تم روک سکے ہو اور یہی وہ تکلیف ہے جس نے آگ بن کر تمہیں ایک عذاب میں مبتلا کیا ہوا ہے۔آخری بات یہی ہے۔پس تمہاری گالیاں دینا تو تمہارے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔اگر تم غالب آئے ہوتے تو تم نے گالیاں چھوڑ دینی تھیں تم نے تو ہنسنا اور قہقہے لگانا تھا اور خوش ہو جانا تھا پھر احمدی گالیاں دیتے تمہیں۔جو جھوٹے ہوتے اور جن کی کچھ پیش نہ جاتی انہوں نے پھر آخر تنگ آکر گالیاں ہی دینی تھیں بیچاروں نے۔تو تھوڑے ہو کر ، کمزور ہو کر، بے بس اور بے اختیار ہو کر ان کے دلوں پر تو طمانیت نازل ہوتی ہے خدا کی طرف سے ان کو تو صبر کا نشان دیا جاتا ہے۔ان کو وہ ساری علامتیں عطا ہوتی ہیں جو خدا کے سچے انبیاء کے ماننے والوں کو عطا ہوا کرتی ہیں اور تمہیں جھوٹوں کی علامتیں عطا ہوتی ہیں۔پھر یہ کیسے ہو گیا کہ تم سچے نکلے اور ہم جھوٹے۔دیکھو آنحضرت ﷺ نے ایک سادہ سے فقرہ میں ہمیشہ کے لئے اس بات کا فیصلہ فرما دیا کہ سچا کون ہوتا ہے اور جھوٹا کون ہوتا ہے۔آخری زمانے کے حالات بیان کرتے ہوئے جب یہ فرمایا کہ بہتر (۷۲) فرقے ہو جائیں گے۔کـل هـم فــی النار وہ سارے کے سارے آگ والے ہوں گے سوائے ایک جماعت کے جو بچی ہوگی جسے