خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 749
خطبات طاہر جلد ۸ 749 خطبہ جمعہ ۷ ارنومبر ۱۹۸۹ء گہری طور پر منتظر تھی۔اتنا ز بر دست پرو پیگنڈا تھا کہ برٹش حکومت تک بھی اس بات کو غور سے سننے لگی تھی کہ ہاں امکان موجود ہے اور ان کے بعض وزراء نے بعض احمدیوں سے ذکر کیا کہ وہ تو یہ کہتے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس کو ایک مجرم کے طور پر ہمارے سپرد کیا جائے۔تو دیکھئے خدا نے کس شان کے ساتھ جماعت کو ایک نئی زندگی کا چھینٹا دیا ہے۔کیسی ان کی روحیں تازہ ہوئیں۔کس طرح بے اختیار خدا کی حمد کے ترانے ساری دنیا میں جماعت نے گائے۔یہ کوئی معمولی نشان ہے؟ اور پھر ضیاء کی ایک زندگی میں ان سب ملاؤں کی زندگی تھی۔آپ کو اندازہ نہیں ہو سکتا کہ اس کی موت کے ساتھ ان کے دلوں پر کیا کیا بلائیں پڑیں ہیں۔کیا کیا انہوں نے خبیثانہ منصوبے بنائے ہوئے تھے۔کیا کچھ کرنا ابھی باقی تھا۔ان کے ساتھ تو وہی ہے فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللهُ بِنُورِهِمْ (البقرہ: ۱۸) جب انہوں نے سمجھا کہ ما حول روشن ہو گیا ہے اب ہمارے لئے تو ان کی آنکھوں کا نور خدا لے گیا۔آنحضرت ﷺ کے وصال پر جس طرح ایک محبت کرنے والے عاشق نے یہ کہا تھا کہ تو میری آنکھ کی پتلی تھی آج تو گیا ہے تو میری آنکھیں اندھی ہو گئیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ آج کے علماء کی آنکھوں کی پتلی ضیاء الحق تھا۔اس کی موت کے ساتھ ان کی پتلیاں اندھی ہو گئیں اور ان کی آنکھوں کا نور جاتا رہا۔بالکل قرآن کریم کے بیان کے مطابق فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللهُ بِنُورِهِمْ کا معاملہ ان کے ساتھ ہوا ہے اور وہ سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔یہ جو بعد میں جماعت احمدیہ کو مارنے ، جماعت احمدیہ کے گھر جلانے ، ان کے اوپر گندا چھالنے کی جو خوفناک مہم جاری ہوئی ہے یہ ان کے دل کا غضب ہے جو ننگا ہو رہا ہے، ان کے کینے باہر آرہے ہیں۔جھلا گئے ہیں کچھ ان کی پیش نہیں جا رہی۔اس لئے وہ کہتے ہیں اچھا خدا نہیں تو ہمارے ہاتھ تو ہیں ہم ان کو مارتے ہیں۔ایک اور بات جو وہاں بیان کی گئی وہ یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ ہم سچے ہیں تو جماعت احمدیہ پر لعنتیں پڑیں اور جماعت احمدیہ کے ساتھ یہ ہو وہ اب اس اعلان سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور یہ اعلان کرنا شروع کر دیا ہے کہ ہمیں کچھ نہ ہوا تو ہم سچے نکلیں گے۔وہی منظور چنیوٹی والا حال۔ایک منظور چنیوٹی کو چھپاؤ دوسرے نکل آتے ہیں ہر جگہ یہی حال ہے۔نہ شرافت ہے، نہ صداقت ہے، نہ عقل ہے وہ تحریر تو دیکھو کیا تھی جس پر دستخط کئے گئے ہیں۔کس کی