خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 731 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 731

خطبات طاہر جلد ۸ 731 خطبه جمعه ۱۰/ نومبر ۱۹۸۹ء ڈا کو بھی آجاتے ہیں۔چور بھی آجاتے ہیں۔بڑے بڑے لفنگے بھی جو اپنی سوسائٹی میں لفنگے سمجھے جاتے ہیں وہ بھی آتے ہیں اور بعض دفعہ جماعت میں سے نسبتاً اچھے دکھائی دینے والے لوگ بھی غیروں میں چلے جاتے ہیں۔اگر چہ ان کی تعداد بہت تھوڑی ہے لیکن یہاں بھی بڑی واضح اور قطعی تمیز ممکن ہے۔چنانچہ غیروں میں سے جو گندے ہوں ، شرابی کبابی یا اور گناہوں میں ملوث ہوں جب وہ احمدیت میں داخل ہوتے ہیں وہی تطہیر کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور ایسا آدمی جو جماعت میں داخل ہو اور اس سے پہلے گندا ہو یقیناً جماعت میں داخل ہونے کے بعد اصلاح شروع کر دیتا ہے اور بعض تو انقلابی اصلاح کرتے ہیں۔ایک دفعہ سندھ کے دورے پر مجھے ایک دوست کا تعارف کرایا گیا کہ وہ ہر شرعی عیب میں مبتلا ڈاکو اور ظالم اور سفاک انسان تھا اور سارے علاقے میں ان کا رعب تھا اور ان کے متعلق کہا جاتا تھا کہ اس سے زیادہ گندہ انسان اور اس سے زیادہ ظالم انسان کوئی نہیں۔احمدی ہوا تو ایک دفعہ ان ساری بدیوں کو خیر باد کہ بیٹھا۔خیر باد تو نہیں جہنم رسید کر بیٹھا اور ایسی کامل تو بہ کی کہ وہی شخص اس علاقے میں ولیوں میں شمار ہونے لگا۔یہ مضمون جو ہے ”چوروں قطب بنانا جس کو پنجابی میں کہتے ہیں، یہ وہ مضمون ہے۔تو ایمان تو اپنی واضح علامتیں رکھتا ہے۔اگر اندھیرا روشنی کے ساتھ مشتبہ نہیں کیا جاسکتا تو کیسے ممکن ہے کہ ارتدادکو ایمان کے ساتھ مشتبہ کر دیا جائے۔اس کے برعکس جو احمدی یعنی پہلے احمدی تھے اور بظاہر وہ اچھے نظر آتے تھے وہ جب غیروں کے ساتھ جا کر ملتے ہیں تو آپ ان کے حالات کا جائزہ لے کر دیکھیں بلا اشتباہ ان کے اندرا اعمال کا انحطاط شروع ہو جاتا ہے۔ان کے اندر نہ صرف اپنی ذات میں انحطاط شروع ہوتا ہے بلکہ اکثر صورتوں میں ان کی اولادیں مذہب سے ہی بھاگ جاتی ہیں اور میں نے جہاں تک ان مرتدوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے جو جماعت میں بظاہر کوئی مقام رکھتے تھے ان کی اولا دوں کی بھاری اکثریت دہر یہ ہو چکی ہے اور کوئی بھی دین سے یا مذ ہب سے ان کا کوئی تعلق نہیں رہا۔تو کون کہہ سکتا ہے کہ ایمان اور ارتداد ایک ہی جیسی چیزیں ہیں صرف زاویہ بدلنے سے مختلف دکھائی دیتی ہیں۔علاوہ ازیں جہاں تک لالچ کا تعلق ہے ایک اور بات بڑی نمایاں قرآن کریم پیش کرتا ہے