خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 730
خطبات طاہر جلد ۸ 730 خطبه جمعه ۱۰/ نومبر ۱۹۸۹ء دینا ارتداد سے تعلق رکھتا ہے اور مذہب تبدیل کرتے ہوئے اپنے حقوق کو قربان کر دینا یہ ایمان سے تعلق رکھتا ہے۔پس پاکستان میں کثرت کے ساتھ ایسی مثالیں دکھائی دیتی ہیں۔پھر قرآن کریم یہ فرماتا ہے کہ یہ ردی لوگ ہیں جو ادھر چلے جاتے ہیں اور آنے والے جو ہیں وہ اچھے ہوتے ہیں۔اس پہلو سے بھی آپ دیکھیں تو آپ حیران ہوں گے کہ جماعت احمدیہ میں جتنے شامل ہوتے ہیں وہ ان کے ردی لوگ نہیں ہوتے۔دو قسم کے آنے والے ہیں لیکن ایک قسم وہ ہے میں دوسری قسم کا بھی ابھی ذکر کروں گا اور اس میں بھی علامتیں بالکل واضح ہوں گی۔ایک قسم وہ ہے جو ان میں سے بہترین ہیں۔ان کی اپنی سوسائٹی جانتی ہے کہ وہ نسبتا سچے لوگ ہیں صاف گولوگ ہیں، ایماندار لوگ ہیں اور ان کے اندر کچھ ایسی خوبیاں ہوتی ہیں جن کو سوسائٹی میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جب وہ ایمان لاتے ہیں تو ایک اضطراب پیدا ہو جاتا ہےسوسائٹی میں۔وہ کہتے ہیں تم تو ا چھے بھلے تھے۔جس طرح حضرت صالح کو ان کی قوم نے کہا تم تو مر جو تھے۔تم سے تو امیدیں وابستہ تھیں تمہیں کیا ہو گیا۔یہ کیا حرکت کر بیٹھے اور جماعت میں سے جو ادھر جاتا ہے اس کے متعلق ہمیشہ یہ اطلاع ملتی ہے کہ یہ صاحب تو کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے۔یہ گند تھا فلاں گند تھا کبھی چندہ نہیں دیا، کبھی نماز نہیں پڑھی۔فسادات میں سب سے آگے۔پارٹی بازی میں پیش پیش تو ان کو تو پہلے نکال دینا چاہئے تھا۔میں امور عامہ کو پھر بعض دفعہ لکھتا ہوں کہ ” نکال دینا چاہئے تھا اب کیوں بتاتے ہو۔بہتر یہ تھا کہ پہلے وقت پر بتاتے اور اس معاملے میں جماعت کو پاک اور صاف کرنے کی آج کل شدید ضرورت ہے کیونکہ پاک اور طیب میں تمیز کرنا بھی انبیاء کا ایک کام ہے اور وہ لوگ جو جماعت کے اندر داخل ہوتے ہیں ان کو پاک ہونا پڑے گا۔اگر وہ پاک ہورہے ہیں تو پھر ان پر کوئی اعتراض نہیں خواہ وہ درجہ کمال تک نہ پہنچیں لیکن اگر وہ پاک ہونے کی بجائے خبیث ہورہے ہوں، دن بدن ان کی گندی عادتیں بڑھ رہی ہوں اور نظام جماعت خاموش بیٹھا ر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نظام جماعت نے وہ فرض ادا نہیں کیا جو قرآن کریم نے انبیاء کے سپر داس پہلو سے کیا ہے کہ تم ان میں سے خبیث اور طیب میں تمیز کیا کرو اور ایک کو دوسرے سے الگ کرتے رہو۔دوسرا طبقہ جو غیروں سے آتا ہے اس میں ایک حصہ گندوں کا بھی ہے۔میں نے دیکھا ہے