خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 726
خطبات طاہر جلد ۸ 726 خطبه جمعه ۱۰/ نومبر ۱۹۸۹ء کوشش کی گئی ہے۔چنانچہ چک سکندر میں جو واقعات ہوئے یا فیصل آباد میں اور بہت سی جگہوں پر جو واقعات گزرے ہیں ان میں یہ دشمن کی سازش بڑی کھل کر نمایاں ہو کر ابھرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔چک سکندر میں جو کچھ مظلوم باقی رہ گئے تھے ان پر مسلسل اور شدید دباؤ ڈالتے ہوئے ان کو مرتد بنانے کی کوشش کی گئی اور ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے احمدیت سے بے تعلقی کا اظہار بھی کیا لیکن بہت سے مراد میری یہ نہیں ہے کہ نعوذ باللہ چک سکندر کی اکثریت کیونکہ بھاری اکثریت نے تو عظیم الشان قربانیاں دیں اور کلیہ ان کی ان کوششوں کو رد کر دیا لیکن وہ چند عورتیں اور بچے جو پیچھے رہ گئے ان کا یہ حال ہے کہ ان پر دباؤ ڈال کے ان کے ارتداد کا اعلان کرایا گیا اور یہ جو تاخیر ہورہی ہے احمدیوں کی واپسی کی اس میں بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت کے ساتھ مل کر چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں احمدیوں کو لا کر دباؤ کے نیچے مرتد بھی کیا جائے پھر دوسرے لائے جائیں پھر ان کو مرتد کیا جائے اور اس شرط کے اوپر کوئی احمدی وہاں واپس جانے کے لئے تیار نہیں ہے۔یہ جو واقعات گزر رہے ہیں ان سے مجھے خیال آیا کہ آج جماعت کو ارتداد اور ایمان کے فرق سے متعلق کچھ باتیں بتاؤں۔دیکھنے میں جو آپ کو ارتداد نظر آتا ہے ان کے لئے ایمان ہے۔یعنی وہ کہتے یہی ہیں کہ اتنے لوگ جو بے ایمان تھے وہ ایمان لے آئے ہیں اور جو ہمیں ایمان دکھائی دیتا ہے ہم سمجھتے ہیں اللہ کے فضل کے ساتھ لوگ احمدیت کو قبول کر کے ایمان میں داخل ہورہے ہیں وہ ان لوگوں کو ارتداد دکھائی دیتا ہے۔تو کیا یہ محض نظر کا دھوکا ہے۔کیا محض زاویہ بدلنے سے اشتہات پیدا ہور ہے ہیں یا حقیقت حال اپنی ذات میں بھی کوئی حیثیت رکھتی ہے اور جسے پہچانا جا سکتا ہے۔یہ مضمون ہے جو جماعت کے سامنے بڑے واضح طور پر پیش ہونا چاہئے تاکہ ان میں سے ہر ایک کا دل گواہی دے کے جو احمدیت میں داخل ہو رہے ہیں وہ اللہ کے فضل سے ایمان قبول کر رہے ہیں اور اندھیروں سے روشنی میں آرہے ہیں جو احمدیت سے باہر جارہے ہیں ان کے اوپر قرآنی اصطلاح کے مطابق ارتداد کا لفظ صادق آتا ہے۔اس مضمون کو بیان کرنا کچھ مشکل نہیں چند ایک نکات میں نے آج کے خطبہ کے لئے اختیار کئے ہیں۔سب سے پہلی بات جو قرآن کریم سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ارتداد اس ایمان کی تبدیلی کو کہتے ہیں جس میں دباؤ شامل ہو۔جس میں جبر اور تشد دشامل ہو۔پس قرآن کریم نے اس