خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 722
خطبات طاہر جلد ۸ 722 خطبه جمعه ۳ / نومبر ۱۹۸۹ء دیں گے۔ملک صاحب کے زندگی کے حالات کچھ الفضل میں پیچھے شائع ہوئے ممکن ہے آپ میں سے بعضوں نے پڑھے ہوں اور بعض نے نہ پڑھے ہوں اگر نہیں پڑھے تو وہ پڑھنے چاہئیں۔بڑے دلچسپ حالات ہیں ان سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ کس طرح ان کو خدا نے ذہنی ارتقاء نصیب فرمایا۔اب دیکھیں کیسا نیک اور پاک انجام ہے کہ اگر خدانخواستہ اسی حالت میں یہ اپنی باقی زندگی بسر کرتے تو ایک نہایت غلیظ گند بکنے والے ملاں کے طور پر مرتے جس کی زندگی کا مقصد ، جس کے اسلام کی خدمت کا تصور سوائے اس کے کچھ نہیں کہ سارا دن گند بولو اور گالیاں دو اور غلاظتیں پھیلا ؤ اور دشمنیاں پیدا کرو اور خدا کے بندوں کے قتل و غارت کی تعلیم دو اور مسجدوں کو منہدم کرنے کی تلقین کیا کرو۔کیسا بد انجام ہے۔اس انجام سے نکال کر، اندھیروں سے خدا ان کو روشنی میں لے آیا اور یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ مجلس احرار سے آنے کے باوجود اپنی زبان میں بعد میں ایسے پاکیزہ ہوئے کہ کبھی ساری زندگی کسی سے سخت کلامی نہیں کی۔نرم رو اور نرم گفتار تھے اور طلباء کے طور پر بھی ہم جانتے ہیں کہ ہم سے بہت غلطیاں ہوئیں، بعض دوسرے اساتذہ بعض دفعہ زبان کی سختی بھی کیا کرتے تھے۔بعض اساتذہ ایسے بھی تھے جن کے منہ سے بعض دفعہ ایسے کلمے بھی نکل جاتے تھے جنہیں طلباء گالی کہ دیتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ گالی نہیں حقیقت ہے مگر بہر حال وہ گالی کے قریب قریب مضمون پہنچ جایا کرتا تھا لیکن ملک صاحب کی زبان سے کبھی کسی نے کبھی ساری زندگی ایسا کلمہ نہیں سنا جس کے متعلق آپ کہہ سکیں کہ اس نے دل پر بوجھ ڈالا ہے۔پس یہ روحانی پاک تبدیلی ہے جو خدا تعالیٰ نے ان کی ذات میں فرمائی اور انجام ایسا نیک کے ساری اولاد، سات بچے ہیں چار بیٹیاں اور تین بیٹے سارے ہی اللہ کے فضل سے نہایت مخلص اور فدائی احمدی سلجھے ہوئے ، با اخلاق لوگ اور دنیا میں بھی ہر جگہ بہترین زندگی گزارنے والے اور اچھے مناصب پر فائز ، اچھی جگہ بچیوں کی شادیاں ہوئیں، سارے گھر خوش اور آباداللہ کے فضل کے ساتھ اور کبھی کسی جماعت سے میں نے ان کے بچے کے خلاف کبھی کوئی شکایت نہیں سنی بلکہ جب بھی سنا ہے تعریف سنی ہے کہ خدا کے فضل سے صف اول کی خدمت کرنے والے ہیں۔وفات کے وقت آپ کی عمر اناسی سال سے کچھ اوپر تھی اور آخری کام جو انہوں نے کیا ہے وفات سے پہلے وہ مجھے خط لکھا دعا کا جو مجھے ان کی وفات کے بعد ملا۔بہت دعاؤں کے مستحق ہیں اور