خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 715
خطبات طاہر جلد ۸ 715 خطبه جمعه ۳ / نومبر ۱۹۸۹ء سے وہاں یہ کمزوریاں محسوس نہیں ہور ہیں مگر ایک سو بیس ممالک میں پھیلی ہوئی جماعت میں پھیلی ہوئی ظیمیں موجودہ نظام کے مطابق تو سنبھالی جاہی نہیں سکتیں۔لاز ماہر ملک کی ذیلی تنظیم کو براہ راست خلیفہ سے واسطے کا حق ہے اور اس کا یہ حق بحال ہونا چاہئے۔جہاں تک بڑھتے ہوئے بوجھ کا تعلق ہے میں نے جیسا کہ بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ خود را ہنمائی فرماتا چلا جاتا ہے اور بوجھ ہلکے بھی کرتا چلا جاتا ہے اور کاموں کو آسان کر دیتا ہے۔اس سلسلے میں میں نے جب غور کیا تو زندگی کی مثال اپنے سامنے رکھی۔میں نے سوچا کہ خدا تعالیٰ نے جو نظام پیدا کئے ہیں وہ اتے تفصیلی اتنے گہرے ہیں کہ ایک شخصیت کا مرکزی نقطہ یعنی اس کی Consciousness اس کا شعور بیک وقت کس طرح اس سارے نظام کی نگرانی کر سکتا ہے لیکن اس کے باوجود ایسا ہی ہے۔زندگی کے ہر جنس کے ہر جز ، میں یہی نظام کارفرما آپ کو دکھائی دے گا کہ مرکزی نقطہ اگر اسے کہیں تو اس کا براہ راست سارے نظام سے واسطہ ہے۔اگر اسے دماغ کہیں تو اس کا بھی براہ راست سارے نظام سے واسطہ ہے اور وہ جگہ جہاں دل اور دماغ اکٹھے ہو جائیں اس آخری نقطہ کا نام روح ہے اور اس کا بھی سارے نظام سے واسطہ ہے۔یہ کیسے ممکن ہے؟ اس بات پر غور کرتے ہوئے مجھے ایک بہت ہی لطیف نقطہ سمجھ آیا۔میں Conscious Mind (Unconscious Brain Conscious Brain یا Unconscious Mind کے مسئلے پر غور کیا تو ایک معمہ میرے لئے حل ہو گیا کہ نظام کس طرح جاری ہے اور کس طرح Unconscious Mind بنتا ہے اور کیسے بنتا ہے۔چنانچہ مجھے خدا تعالیٰ نے یہ بات سمجھا دی کہ آغاز زندگی کا Conscious Mind سے ہوا ہے کوئی چیز Unconscious نہیں تھی۔پہلی حرکت زندگی نے جو کی ہے وہ Conscious Mind کے ذریعے ہوئی ہے اور جب Conscious Mind نے یعنی ایک آخری احساس جسے ہم شعور کہہ سکتے ہیں اس نے جب ایک نظام مکمل کر لیا اور اس کی نگرانی خوب ایسی کی کہ وہ اپنی ذات میں جاری وساری ہو گیا تو اس کی توجہ پھر اگلے قدم کی طرف خدا نے پھیری اور جو پہلا حصہ تھا اس کو لا شعور دماغ بنا دیا۔وہ تھا اسی دماغ کا حصہ لیکن دب کر نیچے اتر آیا اور اس وقت تک یہ واقعہ نہیں ہوا جب تک سو فیصدی اطمینان اور کمال حسن کے ساتھ وہ حصہ نظام کا جاری نہیں ہوا۔