خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 714 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 714

خطبات طاہر جلد ۸ 714 خطبه جمعه ۳ / نومبر ۱۹۸۹ء حالات سے واقف ہو اور صحیح مشورہ صدر کو دے سکے۔اول تو اپنی ذات میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے معلومات کا دھارا تنگ اوپر سے صدر اور مجالس کے درمیان ایک اور واسطہ پڑ جائے جو مجلس بیرون کے سیکرٹری کا واسطہ ہو اس کو مہتم کہا جاتا ہے یا انصار اللہ میں غالباً کوئی اور نام ہے۔بہر حال اس بیچارے کو کچھ پتا لگ ہی نہیں سکتا کہ کیا ہورہا ہے میں نے کیا فیصلے کرنے ہیں۔یا تو من وعن ہر رپورٹ کو اسی طرح قبول کرتا چلا جائے گا اور اس میں بعض غلط مشورے آئیں گے تو اس کو پتا نہیں لگے گا کہ اس کو قبول کرنا ہے یا نہیں کرنا۔چنانچہ ایسے فیصلے بعض دفعہ ہو گئے غلطی سے کہ ایک ایسا شخص جس کے متعلق خلیفہ وقت کو تو علم تھا کہ وہ ایک بیرونی خطر ناک تنظیم کا نمائندہ بن کے جماعت میں داخل کیا گیا ہے لیکن اس کی تفصیل سے تحریک کو بھی علم نہیں تھا۔وہ سارے ملک کا صدر منتخب ہو جاتا ہے اور مجلس مرکزیہ کی طرف سے منظوری کی اطلاع چلی جاتی ہے یا جانے لگتی ہے تو علم میں بات آجاتی ہے۔ایسا ایک واقعہ اس زمانے میں ہوا جب میں خود تحریک جدید میں عارضی طور پر وکیل التبشیر کے طور پر کام کر رہا تھا۔چنانچہ ایک شخص کے متعلق میرا ذاتی تاثر ( میں دورہ کر کے آیا تھا دنیا کا اپنے ذاتی طور پر ) اس کے متعلق ایسا تھا جب اس کی اطلاع ملی کہ یہ بننے لگا ہے کچھ اہم عہد یدار تو میں نے ذکر کیا حضرت خلیفہ اسیح الثالث سے۔آپ کی معلومات اس سے بہت زیادہ تھیں جو میرا تاثر تھا آپ نے بتایا کہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔فوری طور پر تحریری حکم دو کہ یہ کام نہیں ہوگا اور ان کو سمجھاؤ کہ ایسے معاملات میں مشورہ کیا کریں پہلے جو بڑے اہم فیصلے ہیں۔اور بعد میں بھی ایسے اکا دکا واقعات ہوتے رہے۔تو اس وجہ سے عملاً جو قیادت ہونی چاہئے دنیا کی وہ دنیا کو نصیب نہیں ہے۔یعنی خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ کو جو ذاتی حق ہے کہ مرکزی قیادت ان کو حاصل ہوا اور خلیفہ وقت براہ راست ان سے تعلق رکھتا ہوان کے حالات پر نظر رکھتا ہو اس سے وہ محروم ہونے کی وجہ سے کاموں سے محروم رہ گئے ہیں اور الا ما شاء لله وہ چند مجالس جہاں خلیفہ وقت کا بار بار آنا جانا ہے یا عارضی قیام ہے وہاں خدا کے فضل سے ایک بڑی نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی ہے اور اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ باوجود اس کے کہ نظام تبدیل نہیں ہوا عملاً ان مجالس نے براہ راست رابطے قائم کئے ہوئے ہیں۔اس لئے خدا کے فضل