خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 710
خطبات طاہر جلد ۸ 710 خطبه جمعه ۳ / نومبر ۱۹۸۹ء ہوئے معلوم ہوتا ہے وہ اپنی ذہانت کی وجہ سے بہت گہرائی میں اترے ہیں اور خصوصیت کے ساتھ خلافت کا جماعت کے ساتھ رابطہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میرے لئے یہ ایک نا قابل یقین چیز تھی کہ مگر میں نے غور سے دیکھا تو یہ نا قابل یقین چیز واقعہ موجود پائی۔وہ کہتے ہیں میرے لئے بہت مشکل ہے کہ میں صحیح معنوں میں بیان کر سکوں جو میں نے دیکھا ہے مگر خلاصہ یہ کہ سکتا ہوں کہ خلافت اور جماعت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور دونوں اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ باہم پیوست ہیں کہ ایک کو دوسرے سے الگ شخصیت کے طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا۔اپنے محبت کے تعلق میں ، اپنے نظام کے تعلق میں اپنے مسائل کے تعلق میں ایک ہی وجود بن گیا ہے اور اس ضمن میں وہ ایک بہت ہی دلچسپ بات یہ لکھتے ہیں کہ میں نے جب خلافت کے کاموں پر غور کیا تو مجھے یوں معلوم ہوتا تھا کہ یہ ناممکن چیز ہے یہ نہیں ہوسکتا۔لیکن جب میں نے قریب سے دیکھا اور ملاقاتیں کیں تو مجھے پتا لگا کہ واقعہ یہ ناممکن ممکن بنا ہوا ہے۔بہت سے احمدیوں سے میں نے سوال کیا کہ آخر یہ کیوں ہوا ہے تو انہوں نے کہا یہ معجزہ ہے اور خدا کی ہستی کا ثبوت ہے اور اس بات سے ہمارے یقین زندہ رہتے ہیں اور ایمان تازہ ہوتے ہیں کہ جو چیزیں دنیا کی نظر میں ناممکن ہیں وہ اللہ تعالیٰ نے جماعت میں ممکن کر دکھائی ہیں۔تو وہ لکھتے ہیں کہ جو چیزیں ایک بیرونی نظر سے دیکھی جائیں لا یــنــحــل دکھائی دیتی ہیں ان کا حل جماعت احمدیہ کے نزدیک یہی ہے کہ خدا ایک زندہ ہستی ہے جس کا جماعت سے تعلق ہے اور وہ جماعت کے لئے ناممکن کاموں کو ممکن بناتا چلا جاتا ہے۔میں ان کے اس مطالعہ سے بڑا متاثر ہوا کیونکہ میں نے کبھی کسی مستشرق کو بیرونی جائزہ کے سوا گہرائی میں اترتے نہیں دیکھا۔بڑے بڑے عالموں کی کتابیں میں نے پڑھی ہیں لیکن ان کے تمام مطالعے سرسری ہوتے ہیں اور جلد سے نیچے نہیں اترتے۔اس مصنف نے حیرت انگیز زکاوت کا ثبوت دیا ہے اور معلوم ہوتا ہے ان کے اندر کوئی روحانیت کا مادہ ہے جس کی وجہ سے ان کو خدا تعالیٰ نے اندر اترنے کی بصیرت عطا فرمائی۔بالعموم نظام جماعت کا ان کا مطالعہ درست اور قابل اعتماد ہے اور اس پہلو سے یہ کتاب نہ صرف پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے بلکہ غیر از جماعت دوستوں اور غیر مسلموں کو بھی جماعت کا تعارف کروانے کے لئے ایک بہت اچھی کتاب ہے۔جہاں تک عقائد کی تفاصیل کا تعلق ہے، جہاں تک اختلافات کا تعلق ہے بہت معمولی بعض