خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 709 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 709

خطبات طاہر جلد ۸ 709 خطبه جمعه ۳ / نومبر ۱۹۸۹ء آئندہ ہر ملک کی ذیلی تنظیموں کے صدران براہ راست خلیفہ وقت کو جوابدہ ہوں گے (خطبه جمعه فرموده ۳ / نومبر ۱۹۸۹ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔وقت کے ساتھ ساتھ جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں بھی بڑھتی چلی جارہی ہیں اور جہاں تک نظام خلافت کا تعلق ہے بظاہر بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے نتیجے میں اس کو براہ راست پھیلتے ہوئے کاموں سے واسطہ نہیں رہنا چاہئے اور سلسلہ وار بیچ میں دوسرے واسطوں کو پیدا ہونا چاہئے کیونکہ یہی دنیا کا نظام ہے اور اسی طرح دنیا کے نظام بڑھتے اور پھیلتے ہیں لیکن جماعت احمد یہ میں یہ صورت نہیں ہے۔خلافت کے ساتھ نظام کے ہر جز وہ ہر شعبہ کا ایک ایسا گہرا براہ راست تعلق ہے کہ یہ تعلق محض نظام جماعت کے شعبوں ہی سے نہیں ان سے پار اتر کر ہر فرد بشر سے بھی جہاں تک ممکن ہے یہ تعلق قائم ہوتا چلا جاتا ہے اور یہ تعلق کے دائرے پھیلتے چلے جاتے ہیں۔بظاہر یہ بات ناممکن دکھائی دیتی ہے اور دنیا کے دانشور جنہوں نے غور اور قریب سے جماعت احمدیہ کا مطالعہ کیا ہے وہ یہی نتیجہ نکالتے ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ یہ ممکن ہوتا چلا جا رہا ہے بلکہ اس کی ضرورت اور بھی زیادہ شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔ابھی حال ہی میں ایک ایسی کتاب کینیڈا سے شائع ہوئی ہے جسکا میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی ذکر کیا تھا۔پروفیسر Nino Gultairy نے ایک کتاب لکھی ہے Conscience and Coercion۔اس میں جماعت احمدیہ کے نظام کا مطالعہ کرتے