خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 705 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 705

خطبات طاہر جلد ۸ 705 خطبه جمعه ۲۷/اکتوبر ۱۹۸۹ء ضرورت نہیں رہتی۔عرش پر بلند ہونا یا عرش پر استوئی پکڑنا یہ مفہوم رکھتا ہے کہ خدا اپنی تخلیق میں ایک کامل نظام پیدا کرتا ہے اور جب وہ نظام جاری کر دیتا ہے تو اس کی نوک پلک درست کر کے اس کو اس طرح چلا دیتا ہے کہ پھر وہ جاری و ساری ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو پھر یہ جس طرح انسانی سطح پر ہم سوچیں تو بھاگنے دوڑنے کی پھر ضرورت کوئی نہیں کہ او ہو ہو ہو! فلاں شعبہ ختم ہورہا ہے، فلاں جگہ یہ نقص پڑ رہا ہے اور فلاں جگہ یہ کام ہورہا ہے۔وہ سارا نظام اپنی ذات میں ٹھیک ٹھاک درست ہو کر جاری وساری ہو جاتا ہے اور کوئی شور اس کا سنائی نہیں دیتا۔یہ بہترین نظام کی تصویر ہے جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں کھینچی ہے۔وہ امراء جو اپنے ماتحت شعبوں کو شروع میں محنت کر کے اور توجہ کر کے اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیتے ہیں اور جاری وساری کر دیتے ہیں اس کے بعد وہ پھر اپنی توجہ منتقل کرتے ہیں ایک اور شعبہ کی طرف ، پھر ایک اور شعبہ کی طرف پھر ایک اور شعبہ کی طرف اور پھر رفتہ رفتہ جب سب نظام درست ہو جاتا ہے تو ان کو بھی خدا تعالی کی طرح ایک عرش نصیب ہوتا ہے اور وہ دنیا کی سطح سے بلند سطح کا ایک عرش ہوتا ہے اور وہ اپنی جماعت میں ایک ایسی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں جس طرح خاندان کا ایک بزرگ جس کے بچے اس کے لئے کام کر رہے ہوں اور بظاہر وہ بیچ میں کاموں میں ملوث نہ ہو ان سے اوپر بالائی سطح پر بیٹھا نظارہ کر رہا ہولیکن در حقیقت یہ اس کی عمر بھر کی محنت اس کا سلیقہ اس کی عقل ہی ہے جو اولاد میں اس قسم کے کام کی ہمت اور کام کا سلیقہ عطا کرتے ہیں۔آپ بھی بحیثیت امراء اس طرح کام کریں۔تحریک جدید کا شعبہ مثلاً ہے۔میں نے گزشتہ چند سالوں سے خاص طور پر یہ مشاہدہ کیا ہے کہ آخری وقت تک رپورٹیں نہیں آرہی ہوتیں۔جب ان کو یاد دہانی شروع کروائی جاتی ہے۔تقریبا دو مہینے خطبے سے پہلے میں توجہ دلانی شروع کر دیتا ہوں اور اس کے باوجود وقت پر رپورٹیں نہیں پہنچتیں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ توجہ نہیں کرتے کیونکہ جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی اطاعت کی روح ہے۔وہ توجہ ذرا دیر سے شروع کرتے ہیں۔جب تک ان کو جگایا نہ جائے ہوش نہ دلائی جائے ان کو پتا نہیں لگتا کہ ہم نے کیا کرنا تھا اور پھر شرم مانع ہو جاتی ہے۔بعض جگہ وہ رپورٹیں پی جاتے ہیں کہ خاموشی اختیار کر جاؤ ہے ہی کچھ نہیں بیان کرنے کے لئے۔ہر جگہ وہ دیر سے کام شروع کر کے وقت کے او پر ختم نہیں کر سکتے۔اس لئے کچھ تو