خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 692 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 692

خطبات طاہر جلد ۸ 692 خطبه جمعه ۲۷/اکتوبر ۱۹۸۹ء سے انہوں نے پوری احتیاط کے ساتھ ، وضاحت کے ساتھ اجازت حاصل نہیں کی تھی۔چنانچہ اجازت دینے کے معا بعد جب علماء نے یہ شور مچایا یعنی ان لوگوں نے جن کو علماء کہا جاتا ہے انہوں نے شور مچایا تو پہلے دن ہی حکومت پنجاب نے شدید رد عمل دکھایا احمدیوں کے خلاف اور ڈی سی نے زبانی پیغام بھجوایا اے سی کو کہ وہ فوری طور پر دھونس جما کر جس طرح بھی ہو اس اجازت کو منسوخ کروا کر یہ اجتماع بند کروادیں۔اے سی اور پولیس والے نمائندے جماعت پر زور دیتے رہے لیکن جماعت نے یہ موقف لیا کہ جب تک آپ با قاعدہ تحریری طور پر اپنی تحریری اجازت کو منسوخ نہیں کرتے اس وقت تک آپ کا کوئی حق نہیں کہ ہم سے توقع رکھیں کہ ہم ایک جاری اجتماع کو بند کر دیں جس میں شمولیت کے لئے ہزار ہا نو جوان دور دراز کا سفر طے کر کے آئے ہیں۔لیکن انہوں نے اپنا دھونس کا طریق جاری رکھا اور دباؤ ڈالنے کے لئے ناظر صاحب امور عامہ مرزا خورشید احمد صاحب کو اور ان کے بھائی جو اس وقت ناظر اصلاح وارشاد ہیں یعنی ایک حصہ کے ناظر اصلاح و ارشاد مرزا غلام احمد صاحب کو پکڑ لیا بغیر کسی وارنٹ کے بغیر کسی تحریری حکم نامے کے اور ان کے ساتھ دو امور عامہ کے کارکنان کو اور اس کے علاوہ کچھ اور لوگوں کے پکڑنے کے لئے انہوں نے کوششیں شروع کر دیں اور ان کو رات کو چھاپہ مار کے وہاں چنیوٹ تھانے میں پہنچادیا گیا جہاں سے دوسرے دن با قاعدہ جیل میں منتقل کیا گیا۔ان کی حماقت کی حد یہ ہے کہ جماعت کو یہ پیغام بھی دیا کہ اگر آپ ان دونوں کو چھڑوانا چاہتے ہیں تو ان کے بدلے کوئی اور احمدی دے دیں اور مجھے یہ پیغام فون کے ذریعے ملا۔میں نے پیغام دینے والے سے کہا آپ نے سوچا کیوں نہیں یہ پیغام کوئی دینے والا پیغام ہے۔میرے لئے سارے احمدی برابر ہیں بلکہ وہ دو خدا تعالیٰ کے فضل سے سعادت پارہے ہیں میں کیوں ان کی اس سعادت میں مخل ہوں۔اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔آپ کو فوراً انکار کر دینا چاہئے تھا۔جماعت احمدیہ کے کسی فرد کو خواہ وہ کسی مقام سے تعلق رکھتا ہواگر خدا کی خاطر اذیت دی جا رہی ہو تو اس کا دنیا میں کوئی متبادل نہیں ہے۔اس کا ہی حق ہے اسی کو یہ سعادت نصیب ہوئی ہے اور اس کی سعادت میں مخل ہونے کا مجھے بھی کوئی حق نہیں۔چنانچہ میں نے کہا ان کو کہیں مزے کریں اور مجھے بڑی خوشی ہوئی اس پہلو سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کو بھی اس بابرکت دور