خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 685
خطبات طاہر جلد ۸ 685 خطبه جمعه ۲۰ را کتوبر ۱۹۸۹ء نتیجے میں جو دل میں بشاشت پیدا ہوتی ہے اور محبت پیدا ہوتی ہے اور معطی کے دل میں مزید دینے کی تمنا پیدا ہوتی ہے۔ اس سے بہت بڑھ کر اتنا بڑھ کر اس سے کوئی نسبت نہیں خدا تعالیٰ اپنے شکر گزار بندوں کو مزید عطا کرنے کے لئے ایک جوش رکھتا ہے اور بہت ہی زیادہ حسن واحسان کے ساتھ جذبہ تشکر کو قبول فرماتا ہے۔ پس جماعت احمد یہ اگر شکر گزار بنے جیسا کے شکر گزار ہے اور یہ سال تو ہے ہی خدا تعالیٰ کے فضلوں پر اس کے حسن واحسان پر اس کی حمد و ثناء کے گیت گانے کا سال ۔ مگر یہ سال کہنا بھی غلط ہے کہ ہماری تو ساری زندگیاں خدا کے فضلوں کے گیت گاتی ہوئی گزرجائیں تو حق شکر ادا نہیں ہو سکتا مگر خصوصیت کے ساتھ اس بدلتے ہوئے دور کے ابتدائی آثار کو جذ بہ تشکر کے ساتھ قبول کریں اور خدا سے یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان آثار کے پیچھے وہ رحمتوں کی بارش لے آئے یہ جن کی ابتدائی نشانیاں معلوم ہوتی ہیں۔ یہ جذ بہ بھی ہم نے حضرت اقدس محمد مصطفی سے ہی سیکھا ہے۔ آپ کے متعلق روایت الله آتی ہے کہ جب بعض دفعہ لمبے انقطاع کے بعد بادل گھر کے آتے تھے اور بارش کا پہلا قطرہ گرتا تھا تو حضور اپنے رب کی محبت اور پیار میں جذبہ تشکر کے طور پر زبان باہر نکال کر اس قطرہ کو اپنی زبان پر لیا کرتے تھے اور حمد و ثنا کے گیت گایا کرتے تھے خدا کی اس رحمت پر ۔ صلى الله تو بعید نہیں کہ اگر حضرت محمد مصطفی کی غلامی اور آپ کے عشق میں آپ بھی اسی طرح اس احسان کو جو بظاہر احسان بھی نہیں احسان سمجھتے ہوئے اس نیکی کے پہلے قدم کو شکر کے ساتھ قبول کریں گے اور اپنی زبان خدا کے حضور نکال کر اس کی رحمت کے قطرے کے طور پر اس کے حضور پیش کریں گے کہ اے خدا! یہ رحمت کا قطرہ ہماری زبان پر گرے اس لئے کہ پھر اس کے بعد کثرت سے بارش برسنے لگے ۔ تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس جذبہ کو خدا تعالیٰ قبول فرمائے گا۔ اس مضمون کو بیان کرنے کے لئے میری توجہ آج رات ایک رؤیا کے ذریعے مبذول کروائی گئی۔ اس رویا میں خدا تعالیٰ نے مجھے یہ دکھایا کہ جماعت احمدیہ کو دراصل خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کرنا چاہئے اور التجائیں کرنا چاہئے اور نتیجے کے لحاظ سے اپنی دعاؤں پر ہی تو کل کرنا چاہئے ۔ شاید اس کا پس منظر یہ ہو کہ کل مجھے بعض ایسی اطلاعیں ملیں کہ جن کے نتیجے میں معلوم ہوتا تھا کہ ہماری دنیا