خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 679
خطبات طاہر جلد ۸ 679 خطبه جمعه ۱۳ اکتوبر ۱۹۸۹ء کریں کہ خدا اس شعور کی روشنی کو صبح صادق کی روشنی بنادے جس کے بعد دن چڑھ جایا کرتا ہے۔ جس کے بعد اندھیرے اور روشنی میں پھر کوئی اشتباہ باقی نہیں رہا کرتا ۔ اس طرح اس قوم پر یہ بات روشن ہو جائے کہ خدا کی ناراضگی کے نتیجے میں خود یہ اپنے ہی قوم اور اپنے وجود کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور اپنی ان کی بداعمالی ہی ہے جو دراصل خدا کے ناراض ہونے کی صورت میں ان پر نازل ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو تقویٰ کے ساتھ اپنے اعمال میں پاک تبدیلی پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ احمدیوں کو بھی اس وسیع مذہبی تاریخ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے کردار کو پہلے سے زیادہ بہتر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ جتنا یہ ظلم اور سفا کی میں آگے بڑھتے ہیں اتنا ہی زیادہ احمدیوں کو خدا کی ذات میں نہاں ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ ہی ایک علاج ہے اس کے سوا اور کوئی علاج نہیں ۔ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور جتنا یہ گندا چھالتے ہیں اتنا ہی آپ خدا والے بننے کی کوشش کریں، خدا کی صفات اپنے اندر جاری کرنے کی کوشش کریں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیشہ کے لئے یہ گر سکھا دیا ہے کہ : عدو جب بڑھ گیا شور و فغاں میں نہاں ہم ہو گئے یار نہاں میں در نمین: ۵۵) ہم اپنے یار نہانی میں جو دل میں بسا کرتا تھا پہلے تو وہ ہمارے اندر چھپا ہوا تھا پھر ایک ایسا وقت آیا کہ جب دشمن نے شور شرابا کیا تو ہم اپنے یار میں چھپ گئے اور اس کے اندر غائب اور پنہاں ہو گئے ۔ پس دنیا کے شور و غونا سے گھبرا کر اگر آپ نے دوڑنا ہے تو خدا کی طرف دوڑیں، اگر چھپنا ہے تو خدا کے وجود میں چھپ جائیں اور جو لوگ خدا کے وجود میں چھپ جایا کرتے ہیں ان کو دنیا کی کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی وہ لازماً غالب آیا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب احمد یوں کو تقویٰ اور نیکی اور طہارت اور نیک اعمال اور خدا کی محبت میں پہلے سے بہت زیادہ بڑھا دے۔ آمین ۔