خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 678 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 678

خطبات طاہر جلد ۸ 678 خطبه جمعه ۱۳/اکتوبر ۱۹۸۹ء ہماری اس قوم کو ایمان لانے والوں میں شامل کر لے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی زمانے کے متعلق غالباً میرا تو یہی یقین ہے کہ اسی زمانے کے متعلق فرمایا ہے خدا کرے کہ یہ بات ہم اپنی آنکھوں سے پوری ہوتی دیکھ لیں۔امروز قوم من نه شناسد مقام من روزی به گریه یاد کند وقت خوشترم ( در مشین فارسی: ۱۱۱) کہ میری اس قوم نے آج میرے مقام کو نہیں پہچانا اور ظلم اور تعدی میں حد سے بڑھ چکی ہے لیکن ایک دن آنے والا ہے کہ میرے خوش تر وقت کو حسرت سے یاد کیا کریں گے کہ کاش ہم اس زمانے میں ہوتے۔پس خدا کرے کہ یہ دوسرا وقت ہم اپنی آنکھوں سے آتا ہوا دیکھ لیں اور اس قوم پر خدا کی تقدیر اپنے فضل کے ساتھ غالب آئے ، اپنی رحمتوں کے ساتھ غالب آئے ، ہدایت ان پر غلبہ پالے اور ان کے دلوں کی سب کجیاں دور ہو جائیں اور وہ تقدیر ہم اپنی آنکھوں سے پوری ہوتی نہ دیکھیں یعنی خدا فضل فرمائے اور ہمیں اس دکھ سے بیچائے کہ اس قوم کو خدا کی تقدیر کی چکی کے اندر پستے ہوئے دیکھیں اور پارہ پارہ ہوتے ہوئے دیکھیں یہاں تک کہ صفحہ ہستی سے ان کا نشان مٹا دیا جائے۔اس وقت قوم کی جوحرکتیں ہیں وہ اسی طرف جارہی ہیں اور شدید بے چینی کے ساتھ دعا کی ضرورت ہے۔بار بار کی نصیحتوں کے باوجود یہ لوگ باز نہیں آئے اور پشیمان نہیں ہوئے لیکن اس کے باوجود جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے کچھ دبے دبے آثار پشیمانیوں کے بھی ظاہر ہورہے ہیں اس لئے معاملہ بالکل یک طرفہ بھی نہیں۔قوم میں بالعموم جب آپ کرید کر دیکھتے ہیں تو ایسے شریف النفس آدمی دکھائی دیتے ہیں جو اس بات کو اٹھانے لگ گئے ہیں، اپنی آواز کو دبانے کی بجائے بعض دفعہ اپنے ماحول میں یہ بات سنانے لگ گئے ہیں کہ دیکھو یہ ظلم ہو رہا ہے اور اسی ظلم کے نتیجے میں خدا ہم سے ناراض ہے۔یہ زیادہ دیر تک بات چلنے والی نہیں اور یہ آواز چھوٹے طبقوں میں بھی اٹھ رہی ہے اور دنیا کے لحاظ سے بڑے طبقوں میں بھی اٹھ رہی ہے اور صاحب اقتدارلوگوں میں بھی رفتہ رفتہ اس بات کا شعور پیدا ہو رہا ہے۔پس اگر کوئی امید کی کرن ہے تو وہ اسی شعور میں ہے۔اس لئے دعاؤں سے اپنی قوم کی مدد