خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 672
خطبات طاہر جلد ۸ 672 خطبه جمعه ۱۳ را کتوبر ۱۹۸۹ء وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ہماری نصیحت یہ ہے کہ اگر تم صبر کرو اور تقوی اختیار کرو تو یقین یا درکھو کہ یہ بہت ہی عظیم خوش نصیبیوں میں سے ایک خوش نصیبی ہے۔ یہاں امور سے متعلق امور کا معنی یہاں باتیں نہیں بلکہ غیر معمولی نصیب ہے۔ تو یہ بات ہر ایک کے مقدر میں نہیں یہ غیر معمولی عظیم مقدر رکھنے والے لوگوں کو توفیق ملتی ہے کہ وہ پہلے اپنے اموال یہ غیر لٹائیں پھر جانوں کا نقصان دیکھیں پھر اس سے اوپر ان شیخی بگار نے والے بد تمیز لوگوں سے نہایت ہی دل آزار باتیں سنیں اور اس کے باوجو د صبر کریں۔ اس آیت کی طرف خصوصیت سے میری توجہ اس لئے مبذول ہوئی ہے کہ آج بھی چک سکندر کے ایک مظلوم کی طرف سے مجھے خط ملا جس میں یہی باتیں بیان ہوئی تھیں اور اس نے لکھا کہ ہمارے سامنے ہمارے اموال لوٹے گئے ، ہمارے گھر جلائے گئے ، ہمارے مویشی ہلاک کئے گئے اور ہماری جانیں تلف کی گئیں اور اس کے بعد اب مسلسل وہاں اتنا گندا چھالا جا رہا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف اتنی گستاخی کی جا رہی ہے کہ دل پھٹتا ہے اور طبیعت میں حوصلہ نہیں رہتا ہمت نہیں رہتی کہ ان باتوں کو برداشت کر سکیں اور اس ضمن میں انہوں نے لکھا کہ جب سے نبوت کی تاریخ کا ہمیں علم ہے اس سے پہلے کبھی کسی قوم کے ساتھ ایسی زیادتی نہیں کی گئی اور اس سے پہلے کبھی انبیاء کی ایسی بے عزتی اور گستاخی نہیں کی گئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ در حقیقت انسان اپنے محدود دائرے میں رہتے ہوئے اپنی دنیا کو باقی سب دنیا پر غالب سمجھ لیا کرتا ہے ، اپنی کا ئنات کو ساری کائنات سمجھ لیتا ہے اس لئے لکھنے والے کی نہ تو تاریخ پر نظر ہے نہ قرآن کریم کی ان آیات پر نگاہ ہے اصلى الله عروسه جس میں ایسی انبیاء کی تاریخ کے حوالے دئے گئے ہیں، نہ حضرت اقدس محمد مصطفی علی کے ساتھ دشمنوں نے جو سلوک کیا اس پر تفصیلی نگاہ ہے۔ اسی قسم کا ایک سوال آنحضرت ﷺ سے بھی کیا گیا تھا۔ صلى الله مکہ کے تیرہ سال جو انتہائی اذیت کے ساتھ تھے اور قوم نے گستاخی کی حد کر دی تھی اور تمام حدیں پھلانگ دی تھیں در حقیقت ۔ ایسے موقع پر حضرت رسول اکرم ﷺ کے ایک صحابی جو بڑے غیور تھے اور اسلام لانے سے پہلے بے حد معزز تھے انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول الله ! صلى الله علي اب تو معاملہ حد برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔ ہم لوگ جو اسلام سے پہلے معزز تھے ہمیں انتہائی ذلیل کیا جا چکا ہے ۔ ہم جو یہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی میلی آنکھ سے ہماری طرف دیکھے۔ اب ہم ہر