خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 670 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 670

خطبات طاہر جلد ۸ 670 خطبه جمعه ۱۳/اکتوبر ۱۹۸۹ء ہوئے تو آپ نے نصیحت فرماتے ہوئے اس طرف بھی توجہ دلائی کہ دیکھو ! تمہاری بے صبری سے کہیں باقی قوم کسی مصیبت میں گرفتار نہ ہو جائے اس لئے تمہارا انفرادی صبر دراصل ساری قوم کی نمائندگی میں صبر ہے اور اس پہلو سے صبر کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔بعض مقامات پر جماعت کے حالات نسبتنا طاقت کے ہیں اور وہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے غیور اور طاقتور احمدی نوجوان موجود ہیں کہ جب چاہیں وہ اپنے جذبات کو غالب آنے دیں اور یہ فیصلہ کر لیں کہ اب اس کے بعد ہم مزید حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہتک برداشت نہیں کریں گے۔ان کے اختیار میں ہیں اور ان کا ان علاقوں میں رعب بھی ہے جب چاہیں وہ اپنے ذاتی بدلے اپنے مختصر دائرے میں لے سکتے ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے غالباً اسی امکان کے پیش نظر یا احتمال کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ نصیحت فرمائی کہ جب بھی تم اپنے جذبات سے مغلوب ہو تمہیں یا درکھنا چاہئے کہ تمہارے اور بھی بھائی بہن اور قوم کے دوسرے ایسے افراد ہیں جو کمزور ہیں اور ان کی ذمہ داری تم پر عائد ہوگی۔اس لئے جہاں تک صبر کا تعلق ہے جماعت احمدیہ کو پہلے سے بڑھ کر صبر کا دامن تھام لینا چاہئے اور اس کا قرآن کریم میں ذکر ملتا ہے کہ مومن جب ہدایت پاتے ہیں تو ایک مضبوط کڑے پر ہاتھ ڈال لیتے ہیں جس کے لئے ٹوٹنا مقدر نہیں ہے۔پس صبر کے ساتھ بھی ایسا ہی تعلق قائم کریں اور کسی قیمت پر اور کسی بدخلقی کے حد سے بڑھنے کے نتیجے میں بھی آپ اپنے صبر کوزخمی نہ ہونے دیں۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ بعض جگہ جماعت کے نوجوان بے چینی کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں اتنی دیر ہوگئی یہ لوگ بدکلامی میں حد سے بڑھتے چلے جارہے ہیں اور ظلم پر ظلم توڑتے ہیں اور پھر اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی گستاخیاں کرتے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں کہ دیکھو ہم سچے ہیں ہم نے سب کچھ کر لیا جو تمہارے خلاف کیا جاسکتا ہے اور تمہاری مددکوتمہارا کوئی خدا نہیں آیا۔یہ دلیل دے کر وہ اور زیادہ ان کے دلوں پر چر کے لگاتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت احمد یہ پاکستان کو غیر معمولی استقامت عطا فرمائی گئی ہے اور مذہب کی تاریخ میں کم ایسے واقعات ملتے ہیں جہاں اس طرح وسیع پھیلے ہوئے علاقے میں لکھوکھا خدا کے بندوں کو اس قدر مستقل مزاجی کے ساتھ صبر اور استقامت کی توفیق ملی ہے۔یہ خدا کا غیر معمولی فضل ہے لیکن اس کے با وجود کچھ کمزور طبیعتیں ہوتی ہیں کچھ ایسے مزاج ہوتے ہیں جو وساوس کا شکار ہو جایا کرتے ہیں۔