خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 663
خطبات طاہر جلد ۸ 663 خطبه جمعه ۶ اکتوبر ۱۹۸۹ء ملفوظات جو کئی جلدوں پر پھیلی پڑی ہیں ان کا آپ مطالعہ کر کے دیکھیں ایک ایک صفحے پر آپ کو ایسی حیرت انگیز چکا چوند کرنے والی سچائی کی روشنیاں دکھائی دیں گی اور دلوں کو مغلوب کرنے والی اور اپنی محبت میں مبتلا کرنے والی تحریریں ملیں گی کہ کوئی شریف فطرت انسان ان کو پڑھنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی ذات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور یہ فیصلہ کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خدا کی طاقت سے بولنے والا انسان ہے اس کی روح کو خدا کی روح سے پیوند ہے اور یہ دنیا کا انسان نہیں ہے جس کی زبان سے یا جس کے قلم سے یہ کلام جاری ہو رہا ہے۔ایک صرف تحریر میں پڑھتا ہوں۔کس رنگ میں آپ نے باریک بینی کے ساتھ ہمیں اپنے نفس کی طرف اصلاح کی طرف توجہ دلائی ہے اور ایک صاحب عرفان انسان ہی ایسی باتیں لکھ سکتا ہے۔ایک جھوٹے کو یہ توفیق نہیں مل سکتی کہ اپنی خوابوں میں بھی ایسی باتیں سوچے۔آپ فرماتے ہیں: و نفس تین قسم کے ہوتے ہیں۔ایک نفس امارہ، ایک لؤ امہ اور تیسرا مطمئنہ۔پہلی حالت میں تو صم بکم ہوتا ہے۔کچھ معلوم اور محسوس نہیں ہوتا کہ کدھر جا رہا ہے۔امارہ جدھر چاہتا ہے لے جاتا ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ ۸۱) اب آپ دیکھیں کہ دنیا کے اکثر انسانوں کی یہی حالت ہے۔وہ دنیا طلبی میں، دنیا کی لذتوں میں ان کے حصول میں ایسا محو، ایسا گم ہے کہ ان کو کبھی خیال بھی نہیں آتا کہ ان کی زندگی کیسی بسر ہورہی ہے، کیوں بسر ہو رہی ہے، کون سا ان کا رخ ہے، کس جہت میں آگے بڑھ رہے ہیں؟ وہ اپنی ذات کی فوری ضروریات میں محو اور ان ضروریات کے حصول کے لئے کوشاں اور دنیا طلبی سے اس قدر مغلوب ہو چکے ہوتے ہیں کہ ان کو گرد و پیش کی کسی انسانی جذبے کی ہوش ہی نہیں رہتی۔تمام زندگی ان کی مطلب پرستی میں گزر رہی ہوتی ہے اور ان کو پتا ہی نہیں لگتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔جھوٹ بولتے ہیں تو اپنے جھوٹ کا پتا نہیں لگتا۔بد کرداری کر رہے ہوتے ہیں تو بد کرداری کا پتا نہیں لگتا۔ظلم اور تعدی سے کام لے رہے ہوتے ہیں اس کی ہوش نہیں ہوتی۔آپ فرماتے ہیں ان کی حالت بگم کی ہوتی ہے۔اب آپ دیکھیں صُمٌّ بُکھ میں آپ نے اس پہلو پر کتنی عظیم الشان روشنی ڈال دی کیونکہ آپ نے یہ قرآن کریم سے مستعار لی ہے اصطلاح۔قرآن کریم ایسے لوگوں کے متعلق جن پر کوئی نصیحت اثر نہیں کر سکتی جو اپنی بد کر دریوں پر پختہ ہو چکے ہوتے ہیں فرماتا ہے