خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 662
خطبات طاہر جلد ۸ 662 خطبه جمعه ۶ را کتوبر ۱۹۸۹ء انتخاب کریں جس حد تک آپ اب اپنے رسائل میں ان کو سمو سکتے ہیں اور اس پہلو سے تمام دنیا کی مختلف زبانوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ شخصیت نمایاں کر کے پیش کرنی چاہئے۔تمام دنیا کے احمدیوں کی تربیت کے لئے یہ نہایت ضروری ہے۔انگریزوں کو حق ہے کہ انگریزی زبان میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایسے اقتباسات کا ترجمہ ہو، افریقنوں کو حق ہے کہ ان کی زبانوں میں یہ ترجمے ہوں اور یوگوسلاویز کا حق ہے کہ ان کی زبانوں میں ترجمے ہوں غرضیکہ دنیا کی ہر زبان میں اس قسم کے اقتباسات کے ترجمے بہت ضروری ہیں کیونکہ دشمن نے دوسری قسم کی تحریرات پر حملے شروع کئے ہوئے ہیں اور اس پہلو سے دنیا میں غلط فہمی پیدا کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ساری دنیا سے جہاں سے اطلاعیں آ رہی ہیں معلوم ہورہا ہے کہ بعض مسلمان حکومتوں کے روپے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کثرت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جہاد پر حملہ ہورہا ہے اور ان تحریرات کو خصوصیت سے نمایاں کر کے دکھایا جا رہا ہے جن میں درشتی اور سختی دکھائی دیتی ہے۔اس کے مقابل پر جب یہ تحریر میں احمدیوں کی نظر میں آئیں گی اور وہ اپنے دوسرے بھائیوں کے سامنے پیش کریں گے تو یہ تحریریں اپنی ذات میں ایک دفاع ہیں۔ان میں اتنی قوت ہے، ایسی گہری صداقت پائی جاتی ہے کہ کوئی انسان جس میں کوئی شرافت کا شائبہ بھی ہو اور حق پرستی سے کوئی تعلق بھی رکھتا ہو وہ ان تحریروں کو پڑھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کسی نے تکلف سے،جھوٹ سے بنائی ہوئی ہیں۔ان کے اندر ایک سچائی کا حسن ہے جو اپنی ذات میں ایک چمک رکھتا ہے۔ہیرے جواہر بھی چمکتے ہیں لیکن وہ دوسری روشنی کی چیزوں سے روشنی پا کر چھکا کرتے ہیں۔وہ منعکس کرنے والی چیزیں ہیں۔کچی تحریروں میں ایک ذاتی روشنی پائی جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایسی تحریروں میں جن کا میں ذکر کر رہا ہوں ایک ذاتی قوت اور ایک ذاتی روشنی پائی جاتی ہے جس کو کسی اور روشنی کی ضرورت نہیں اپنی ذات میں وہ چمکتی ہے۔اس پہلو سے ایسی تحریرات کو کثرت کے ساتھ احمدیوں میں روشناس کروانا نئی نسلوں میں روشناس کروانا اور پھر احمدیوں کے ذریعے غیروں میں روشناس کروانا موجودہ دور کی حکمت عملی کا اولین تقاضہ ہے۔آپ کے سامنے الفضل کی ساری تحریریں تو پڑھنی ممکن ہی نہیں لیکن الفضل نے خود بھی تو بہت تھوڑے تھوڑے سے انتخابات کئے ہوئے ہیں ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی