خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 661 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 661

خطبات طاہر جلد ۸ 661 خطبه جمعه ۶ را کتوبر ۱۹۸۹ء کی جلوہ گری کی شخصیت ہے۔وہ آپ انبیاء کے کلام میں دکھائی دیتی ہے، ان کے کردار میں دکھائی دیتی ہے اس میں ملائمت پائی جاتی ہے، اس میں نرمی پائی جاتی ہے، اس میں بادصبا کا سا رنگ ہے جو پھول کھلاتی ہے، جو گلستانوں پہ بہار لے آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس کلام کو آپ پڑھیں تو بے اختیار دل آپ کی محبت میں اچھلنے لگتا ہے اور بے اختیار انسان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حسن و جمال پر فریفتہ ہونے لگتا ہے۔اس پہلو سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس کلام کا مطالعہ بھی بہت ضروری ہے اور نئی نسلوں کو خصوصیت سے اس کلام سے روشناس کروانا ضروری ہے۔ورنہ یہ پہلا گر نظر انداز ہو گیا تو آپ صحیح معنوں میں اسلام کے حسن کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے اہل نہیں بن سکیں گے۔مجادلہ تو آپ سیکھ سکتے ہیں ان تحریروں سے جو مناظراتی تحریریں ہیں لیکن دلوں کو فتح کرنے والی اور تحریر میں ہیں اور وہ یہی تحریریں ہیں جن کا میں ذکر کر رہا ہوں جہاں پاک، نیک نصیحت ہے۔جہاں فطرت اپنے طبعی حسن کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ سے تعلق کا پیوند اتنا نمایاں طور پر دکھائی دینے لگتا ہے کہ کوئی شخص اگر وہ تعصب سے اندھا نہ ہوا ہوضرور اس حسن کو دیکھ کر اس سے مرعوب ہوگا۔اس کے نتیجے میں اس کے دل میں محبت پیدا ہوگی۔الفضل میں میں جو مطالعہ آج کل کر رہا ہوں اس پہلو سے مجھے سب سے زیادہ حسین چیز یہی دکھائی دیتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایسے اقتباسات کو چن کر پہلے صفحے پر شائع کیا جاتا ہے جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باخدا بنانے والی شخصیت نمایاں ہوتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ان اقتباسات کو جو تو ہر جگہ کتابوں میں موجود ہیں لیکن جس عمدگی کے ساتھ انتخاب کیا گیا ہے اس سے تمام دنیا کی جماعتوں کو استفادہ کرنا چاہئے اور جتنی زبانوں میں بھی جماعت احمدیہ کے رسائل یا اخبارات شائع ہورہے ہیں ان میں وہ اقتباسات شائع کرنے چاہیں۔کیونکہ وہ انتخاب جہاں تک میں نے غور کیا ہے بہت پُر حکمت انتخاب ہے اور بہت سے ایسے اقتباسات بھی چنے گئے ہیں جو آجکل کے مسائل پر خصوصیت سے روشنی ڈالنے والے ہیں۔پہلے اگر اس معاملے میں کچھ غفلت ہوئی ہے تو آئندہ سے نہ صرف تازہ اقتباسات کو اپنی اپنی زبانوں میں ترجمہ کر کے اپنے اخبارات میں شائع کرنا چاہئے بلکہ پرانے اقتباسات میں سے بھی اس حد تک