خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 660
خطبات طاہر جلد ۸ 660 خطبه جمعه ۶ را کتوبر ۱۹۸۹ء ایک انبیاء اور مرسلین کی شخصیت یہ ہے جو غیروں سے مقابلہ نہیں کر رہی ہوتی بلکہ محض خدا کی ذات کے حسن کو اپنی ذات میں ظاہر کر رہی ہوتی ہے اور منعکس کر رہی ہوتی ہے۔اس کے کلام سے، اس کی گفتار سے ،اس کے کردار سے خدا کے جمال کی شان دکھائی دیتی ہے۔پس پہلا حصہ جلال سے تعلق رکھتا ہے۔انبیاء کا دوسرا پہلو جمال سے تعلق رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اصل شخصیت کو اگر آپ نے سمجھنا ہے تو دشمن کے مقابل پر لڑتے ہوئے نہ دیکھیں بلکہ نیک نصیحت کے ذریعے وہ پاک تبدیلی پیدا کرتے ہوئے دیکھیں جو انبیاء کی آمد کا اولین مقصد ہوا کرتا ہے۔وہ تمام تحریرات جیسی ملفوظات میں ہمیں مالتی ہیں یا آپ کی کتب میں قرآن کریم کے مضامین پر روشنی پڑتی ہے۔آنحضرت علﷺ کی احادیث کی معرفت کا بیان ہے یا خدا تعالیٰ کی ذات اور حضرت رسول اکرم عمل اللہ کی ذات سے محبت کا بیان ہے یا عموماً سادہ الفاظ میں مگر بڑے طاقت ور الفاظ میں پاک نصیحتیں ہیں۔ان کو آپ پڑھیں تو ایک بالکل نئی شخصیت آپ کے سامنے اُبھرتی ہے۔وہ اصل انبیاء کی شخصیت ہوا کرتی ہے۔مقابلے کے وقت کی شخصیت میں دشمن کے ہتھیاروں کا استعمال اور دشمن کی طرز عمل کسی حد تک مقابلے میں منعکس ہونا ضروری ہوا کرتی ہے اور اس کے ذریعے اصلی بنیادی کردار صحیح سمجھ میں نہیں آ سکتا۔مثلاً ایک جگہ اگر لڑائی میں ایک دشمن یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دے یا جراثیمی ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دے۔ایسی حکومت جو بنیادی طور پر اس بات کی قائل نہ بھی ہو اس کا اخلاقی معیار اس بات سے بلند ہو کہ کیمیاوی ہتھیار استعمال کرے یا جراثیمی ہتھیار استعمال کرے وہ مجبور ہو گی اپنے دفاع پر۔پس دشمن کے ہتھیار استعمال کرنے کی بعض دفعہ انبیاء کوضرورت پیش آتی ہے اور قرآن کریم اس قسم کے دفاع کا حق دیتا ہے۔ایسی صورت میں ان کی اپنی شخصیت ظاہر نہیں ہورہی ہوتی بلکہ دشمن کی شخصیت کے بعض پہلو مجبورا منعکس ہو رہے ہوتے ہیں۔دفاعی جنگوں میں ہر جگہ آپ کو یہی چیز دکھائی دے گی لیکن اس کے باوجود ایک فرق ہوتا ہے وہ تو بڑا نمایاں فرق ہے لیکن بعض کمزور انسان اس فرق کو نہیں دیکھ سکتے اس لئے اس کی وضاحت کی ضرورت پیش آتی ہے۔مگر بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اور تمام دیگر انبیاء کی ایک دوسری شخصیت بھی ہے جو خدا کی صفات کو اپنی ذات میں ظاہر کر کے خدا کی صفات کو اپنی ذات میں سموکر اس