خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 651 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 651

خطبات طاہر جلد ۸ 651 خطبه جمعه ۶ را کتوبر ۱۹۸۹ء اندراندر اور مولوی عبدالکریم نامی ایک شخص سے قرآن کریم پڑھتی ہے اور اسلامی تعلیم پڑھتی ہے اور اس کا دل بیچ میں سے مسلمان ہورہا ہے لیکن یہ الزام کبھی کسی نے نہیں لگایا کہ یہ مسلمانوں کی دشمن ہے اور بطور خاص عیسائیت کے مقابل پر مسلمانوں کو کچلنا چاہتی ہے۔اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ تعریف کرنا کہ یہ حکومت امن کی علمبردار ہے، انصاف کی علمبر دار ہے اس نے مسلمانوں کو وہ حقوق دے دیئے کہ اس حکومت کے سائے کے نیچے رہتے ہوئے پھر بھی یہ اسلام کا دفاع کرے۔اس پہلو سے آپ نے ملکہ وکٹوریہ کی حکومت کو خدا کا سایہ قرار دیا اور امر واقعہ یہ ہے کہ خدا کا سایہ انہیں باتوں سے تو پہچانا جاتا ہے۔بدامنی تو خدا کا سایہ نہیں ہوسکتی، ظلم اور تعدی تو خدا کا سایہ نہیں کہلا سکتی، نا انصاف کو کون خدا کا سایہ کہتا ہے؟ خدا کے سائے اُس کی صفات سے پہچانے جاتے ہیں اور خدا کی صفات جس انسان میں بھی ظاہر ہوں وہ خدا کے سائے کے طور پر ہی ظاہر ہوتی ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں جہاں ملکہ وکٹوریہ کو خدا کا سایہ رکھنے والی ملکہ قرار دیا وہاں یہ تشریح فرمائی کہ کیوں یہ خدا کا سایہ ہے؟ آپ نے فرمایا کہ یہ انصاف کی علمبردار ہے، یہ مسلمانوں سے حسن سلوک کرنے والی ہے، اپنے ملک میں مسلمانوں کو عیسائیت کے خلاف جہاد کرنے کی اجازت دینے والی ہے اور ہر طرح سے غریب پروری کرنے والی اور مظلوموں کی ہمدرد ہے۔یہی صفات ہیں جو خدا کا سایہ کہلاتی ہیں اور بھی خدا کی بہت سی سائے ہیں لیکن اس پہلو سے یقین ملکہ وکٹوریہ کی ذات میں بعض اعلیٰ صفات تھیں۔جب وہ اس سلطنت میں جاری ہوئیں تو خدا کے سائے کے طور پر جاری تھیں۔مسلمان علماء نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جو حملے کئے ہیں وہ اسی جگہ کئے ہیں، انہی امور پر کئے ہیں جہاں آپ اسلام کے حق میں جہاد کر رہے تھے اور آنحضرت ﷺ کا دفاع کر رہے تھے۔اس مضمون میں آگے بڑھ کر آپ دیکھیں کہ اس کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام مسلسل عیسائیت سے نبرد آزمار ہے اور عیسائیت کے متعلق کسی ایک جگہ بھی آپ نے یہ نہیں کہا کہ عیسائی قوم کی موجودہ حالت خدا کا سایہ ہے بلکہ اسے دجل کہا۔فرمایا حضرت رسول اکرم نے جس دجال کی پیش خبریاں کی تھیں وہ اسی عیسائیت کے متعلق پیشگوئیاں تھیں جو آج عیسائیت کے عروج کی صورت میں دنیا میں ظاہر ہو چکی ہیں۔پس کیسی عظیم الشان حکمت عملی تھی کہ