خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 650
خطبات طاہر جلد ۸ 650 خطبه جمعه ۶ را کتوبر ۱۹۸۹ء مؤرخ اس کو حیرت سے دیکھے گا اور میدان جنگ کے کارناموں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حکمت عملی کو اتنے عظیم الشان خراج تحسین پیش کئے جائیں گے آئندہ دنیا میں کہ مجادلے اور مناظرے کے میدان میں اس کی مثال پیش کرنا مشکل ہوگی۔اب دیکھئے سب سے پہلی حکمت عملی آپ نے یہ اختیار فرمائی کہ انگریز کی حکومت کو عیسائیت سے الگ اور ممتاز کر کے دکھا دیا۔آپ نے فرمایا کہ جہاں تک عیسائیت کا تعلق ہے یہ دجل خالص ہے دھوکہ اور فساد ہے، ظلم ہی ظلم ہے، اندھا مذ ہب ہے ،اس میں کوئی جان نہیں، کوئی حقیقت نہیں، خدا کا کوئی بیٹا نہیں ہے، خدا ہر قسم کے عیب سے پاک ہے۔اس قدرشان کے ساتھ اسلام کو عیسائیت کے مقابل پر پیش کیا اور اس قوت کے ساتھ عیسائیت کے دجل والے پہلو پہ حملے کئے ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ انگریزی حکومت کے متعلق فرمایا یہ امن کی علمبر دار ہے، یہ انصاف پر قائم ہے اور انصاف کو قائم کرنے والی حکومت ہے۔اس نے مسلمانوں کو دوبارہ وہ حقوق عطا کر دیئے ہیں جو ایک لمبے عرصے سے مسلمانوں سے چھینے گئے تھے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انگریزوں کی جہاں بھی تعریف کی اس پہلو سے کی اور اس مجادلے میں جب آپ ان دونوں چیزوں کا موازنہ کرتے ہیں تو آپ حیران رہ جاتے ہیں یہ دیکھ کر کہ تعریف ان باتوں کی کی جو حق تھیں اور کہیں بھی چاپلوسی سے کام نہیں لیا۔ملکہ وکٹوریہ کو اس زمانے میں دنیا میں یہ شہرت حاصل تھی اور انگلستان کے تمام حکمرانوں میں اسے ہمیشہ یہ امتیاز حاصل رہے گا کہ وہ ایک رحم دل، مشفق ملکہ تھی جو انصاف پر قائم تھی اور مظلوموں کی مدد کرنے والی تھی اور مظلوموں کے لئے ہمدردی رکھتی تھی اور مذہبی معاملے میں خصوصیت کے ساتھ اس نے انصاف کو قائم کیا اور مسلمانوں اور عیسائیوں سے معاملہ کرنے میں کوئی تفریق نہیں کی۔یہ وہ پہلو ہیں جن کے متعلق دنیا کا ہر مؤرخ ہمیشہ یہی گواہی دیتا چلا جائے گا اور کوئی متعصب سے متعصب انسان بھی ملکہ وکٹوریہ پر یہ داغ نہیں لگا سکتا کہ اس نے انصاف کا دامن چھوڑا ہو یا اس نے مسلمانوں اور عیسائیوں میں اس پہلو سے تفریق کی ہو کہ اس کا مذہب اور ہے اور اس کا مذہب اور ہے۔یہاں تک ملکہ وکٹوریہ پر بعض عیسائیوں نے یہ الزام تو لگائے کہ یہ مسلمان ہو رہی ہے