خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 645 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 645

خطبات طاہر جلد ۸ 645 خطبه جمعه ۶ اکتوبر ۱۹۸۹ء رسول اکرم علیہ کا اصل جہاد نصیحت کا جہاد ہے حضرت مسیح موعود کی نفس امارہ کے خلاف جہاد کی عظیم تعلیم (خطبه جمعه فرموده ۶ اکتو بر ۱۹۸۹ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: خدا تعالیٰ جن بندوں کو مبعوث فرماتا ہے کہ وہ دنیا کی اصلاح کریں وہ اس اصلاح کے کام کو مختلف رنگ میں سرانجام دیتے ہیں اور دو پہلوؤں سے نمایاں طور پر ان کے اصلاحی کام دو مختلف جہتوں سے الگ الگ اور ممتاز دکھائی دیتے ہیں۔دونوں ہی جہاد ہیں مگر جہاد کی دو الگ الگ قسمیں ہیں۔ایک اصلاحی کام تو غیروں سے مخاطب ہو کر کیا جاتا ہے اور اسے مجادلہ بھی کہتے ہیں یعنی جب غیر اپنی قوت بازو سے خدا کے پیغام کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے اور طرح طرح کے حملے اس سچائی پر کرتا ہے تو جو جوابی کارروائی خدا کے مبعوث بندوں کی طرف سے کی جاتی ہے اسے ہم مجادلہ کہتے ہیں۔غیروں کے ساتھ اور جہاد بھی اسی کا نام ہے۔لیکن جہاد کی ایک قسم ہے عرف عام میں جہاد کو انہی معنوں میں محدود سمجھا گیا ہے۔حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ جہاد کی محض ایک قسم ہے۔دوسرا اصلاح کا ذریعہ نیک نصیحتیں ہیں اس میں غیر بھی مخاطب ہوتے ہیں اور اپنے بھی اور زیادہ تر ان کا رخ اپنوں کی طرف ہوتا ہے۔پس یہ دو نمایاں پہلو ہیں، دو الگ الگ دکھائی دینے والے میدان ہیں جن میں انبیاء اپنی پوری کوششیں صرف کر دیتے ہیں اور یہ دونوں ہی جہاد کی قسمیں ہیں۔جہاں تک جہاد کی پہلی قسم کا تعلق ہے میں نے جو تاریخ انبیاء کا جائزہ لیا ہے تو بڑی نمایاں طور پر یہ حقیقت میرے سامنے آئی کہ انبیاء پر سب سے زیادہ حملے پہلی قسم کے جہاد کے میدان میں