خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 60
خطبات طاہر جلد ۸ 60 خطبہ جمعہ ۲۷/ جنوری ۱۹۸۹ء فضل کے ساتھ جو تمام دنیا میں حیرت انگیز طور پر لوگوں کے دلوں میں روحانیت کے چمن پھیلانے والی ہیں۔اس لئے اس کی طرف جس طرح ہم توجہ کر رہے ہیں اگر جماعتیں اس سے استفادہ کے لئے تیاری کر لیں تو وہ حیران ہو جائیں گی دیکھ کر کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کا کتنا گہرا اثر اور کتنا وسیع اثر پڑتا ہے اور کس طرح دشمن دوستوں میں تبدیل ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے جن دوستوں کو آپ نے بلانا ہے اُس میں دشمنوں کو بھی شامل کریں۔جب میں لفظ دوست استعمال کرتا ہوں تو میری مراد عام محاورے میں دوست یعنی عام انسان ہیں یہ نہ کریں کہ دشمنوں کو محروم رکھیں۔جو شدید معاندین ہیں اگر وہ بھی تیار ہوں سوائے اس کے کہ اس کے بعد بعض ملکوں میں اُن سے شرارت کا اور فتنے کا خطرہ ہو وہاں مومن والی فراست سے کام لیتے ہوئے۔ایسے لوگوں کو نہ بلائیں بلکہ ہوا بھی نہ لگنے دیں اُن کو کہ کیا ہورہا ہے لیکن جن ممالک میں ضمیر کی آزادی ہے وہاں شدید سے شدید دشمن کو بھی بلائیں اُس کو دکھا ئیں تو سہی کہ ہو کیا رہا ہے، احمدیت ہے کیا چیز۔وہ جو آنکھوں سے دیکھنے کا اثر پڑتا ہے وہ سنی سنائی باتوں کا اثر نہیں پڑا کرتا اور نہ وہ کتابیں پڑھنے سے حاصل ہوسکتی ہے یہ بات۔اس لئے خدا تعالیٰ کے فضل سے اگلی صدی کے لئے بہت ہی عظیم زادراہ آپ کے لئے تیار ہے اس کو استعمال کرنا اس ساری صدی میں یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت پر منحصر ہے اور اس کا آغاز بھی نمائشوں کے ذریعے ہوگا اور میں امید رکھتا ہوں کہ نمائشوں میں جب آپ ان ذرائع کا استعمال کریں گے تو سال کے اختتام سے پہلے پہلے خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کی جھولیوں میں کثرت سے روحانی پھل گرنے شروع ہو جائیں گے۔نمائشوں کو سارا سال مؤثر بنانے کی خاطر ایک طریق یہ بھی اختیار کیا جائے کہ مختلف معززین کے دن بنائے جائیں اور اُن معززین کے نام پر اُس دن نمائش ہو، اُن کے لئے خاص احترام اُس دن کا ان کا کیا جائے ، اُن کی تصویر میں کھینچی جائیں۔اخباروں کے نمائندوں کو اطلاع دی جائے۔ٹیلی ویژن اگر ہے، ریڈیو ہے تو ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے نمائندوں کو اطلاع کی جائے اور ہفتے میں ایک دن یا جہاں جماعت زیادہ دن منا سکتی ہے تو بڑے بڑے معززین کو وہاں اُن کے نام کے دنوں میں بلائیں۔یہ دنیا دار لوگ ہیں ان میں بڑے بڑے شریف بھی ہیں مگر دنیا دار ہیں اور جب تک نام ونمود ساتھ شامل نہ ہو یہ ایسے مواقع پر جو خالصہ مذہبی مواقع ہیں زیادہ توجہ نہیں کیا کرتے۔تو