خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 640 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 640

خطبات طاہر جلد ۸ 640 خطبه جمعه ۲۹ ستمبر ۱۹۸۹ء مخالفت اور ان کی پارٹی کی مخالفت تھی اور اب ضیاء کے بعد بھی وہی حال ہے ہمارا کون پرسان حال ہے؟ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ وہی پرسان حال ہے جس نے تین سو سال تک عیسائیت کی اس کے مخالفت کے دور میں حفاظت فرمائی اور بظاہر وہ مخالفت کا دور مٹا نہیں بلکہ بار بار مخالفت کی مختلف شکلوں میں اُبھرتا رہا، زور پکڑتا رہا لیکن خدا نے اپنے بندوں کی حفاظت فرمائی ، ان کے ایمان کی حفاظت فرمائی ، ان کے استقلال کی حفاظت فرمائی ، ان کو ثبات قدم عطا فر مایا اور تین سو سال کے بعد ایک ایسا دور آیا کہ وہ حکومتیں جو اس پیغام کو مٹانے کے درپے تھیں اس پیغام کی ایسی زبر دست علمبردار بن گئیں کہ تمام دنیا تک اس پیغام کو دنیا میں نافذ کر کے چھوڑا اور پھر ساری دنیا پر ان حکومتوں نے حکومت کی۔تمام بنی نوع انسان کو اس پیغام سے مغلوب کر لیا۔وہ مسیح موسوی تھا۔اس مسیح کو ماننے والوں نے یہ ثبات قدم دکھایا اور اس طرح خدا کے وعدوں پر کامل ایمان رکھا اور ان کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی۔ان کو درندوں کے سامنے پیش کیا گیا، بیسیوں بار سینکڑوں بار ایسے واقعات ہوئے کہ تماشا دیکھنے والوں نے سٹیڈیم میں بیٹھ کر بڑے سج دھج کر یہ تماشا دیکھا کہ ایک طرف پنجروں سے بھوکے شیروں، بھیڑیوں اور دوسرے درندوں کو آزاد کیا جاتا تھا اور دوسری طرف حضرت مسیح کے ماننے والوں کو اس میدان میں چھوڑا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ ان کا مقابلہ کرو تم۔تو ایسے کمزور اور ایسے بے بس ہو کہ ان جانوروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہم سے ٹکرانے نکلے ہو۔یہ پیغام تھا اور دیکھتے دیکھتے جنگل کے جانور انہیں چیر پھاڑ دیا کرتے تھے۔ان کی ہڈیاں چبایا کرتے تھے اور سارا ہال قہقہوں سے گونج اُٹھتا تھا دیکھو کتنا عظیم الشان غلبہ خدا نے ہمیں عطا کیا اور ان سچائی کے دعویداروں کو ہم نے کس طرح ذلیل اور رسوا اور نا کام اور نا مراد بنا کر دکھا دیا۔بار ہا ایسے وقت آئے کہ جس طرح آج پاکستان میں احمدی گھروں کو جلایا جاتا ہے ایک دو گاؤں میں نہیں سارے ملک میں یہ احکامات جاری کئے گئے کہ تمام عیسائیوں کو ان کے گھر میں زندہ پھونک دو اور گھروں میں آگ لگاؤ لیکن ان گھروں میں بسنے والوں کو باہر نہ نکلنے دو۔Diclaration ۲۶۴ یا ۲۶۸ء ہے۔دونوں سالوں میں سے غالباً کوئی سال ہے اس میں ایسا ہی کوئی ایک حکم جاری کیا تھا لیکن آپ دیکھتے ہیں کہ کوئی آگ مسیحیت کو جلا نہیں سکی ، کوئی مخالفت کی آگ مسیحیوں کے ایمان کو جلا کر خاکستر نہیں کر سکی۔وہ ہر آگ سے کندن بن کر نکلتے چلے گئے اور محمدی اء