خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 636
خطبات طاہر جلد ۸ 636 خطبه جمعه ۲۹ ستمبر ۱۹۸۹ء میں کہتے ہیں چھا مارنا ، جھا مار کے آواز دی کہ لوگو! آجاؤ اور دیکھ لو کہ شیطان کیسا ہوتا ہے۔نیکی کے رستوں سے روکنے والے لوگ کیسے ہوتے ہیں اور پھر اس نے ایک بڑا خوبصورت موازنہ کیا۔اس نے کہا کہ مولوی صاحب ہم لوگوں کی جوتیاں گھس گئی ہیں قادیان جاتے جاتے اور تمہاری جوتیاں گھس گئی ہیں جانے والوں کو روکتے روکتے لیکن جانے والوں کے قافلے تم سے رُک نہیں سکے۔وہ بڑھتے چلے جاتے ہیں، دور دراز سے لوگ مسلسل آتے چلے جارہے ہیں۔یہ خدائی قافلے ہیں ان کو تم نہیں روک سکتے۔یہ وہ زمانہ تھا مخالفت کا جبکہ مسلمانوں کی طرف سے صرف ایک محمد حسین نہیں بلکہ بہت سے کثرت سے ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے ہندوستان کے طول وعرض میں مخالفت کا ایک طوفان بر پا کر دیا۔پھر دوسری بڑی قوت ہندوؤں کی قوت تھی اور ایک پہلو سے وہ مسلمانوں سے بھی زیادہ قوی تھے کیونکہ تعداد کے لحاظ سے ان کو مسلمانوں پر ایک بھاری غلبہ نصیب تھا۔انہوں نے بھی مخالفت میں کوئی کمی نہیں کی بعض پہلوؤں سے مسلمانوں سے بھی آگے بڑھ گئے۔بڑے بڑے راہنما ان میں پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی زندگیاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت میں وقف کر دیں۔انہی میں وہ لیکھرام پیدا ہوا جس نے یہ اعلان کیا کہ یہ کہتا ہے کہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ میں تیری آواز کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔مجھے تو خدا نے بتایا ہے کہ اس کی آواز قادیان کے کناروں سے باہر نہیں نکل سکے گی اور حد سے حد دو تین سال تک جاری رہے گی اور اس حالت میں کرے گا کہ جو اولاد یہ چھوڑے گا وہ اولا د بھی مر چکی ہو گی جو اولا داس کی پیدا ہوگی وہ بھی اس کی زندگی میں مر چکی ہوگی اور قادیان میں بھی اس کا نام زیادہ سے زیادہ چند سالوں تک یاد کیا جائے گا وہ بھی ذلت کے ساتھ۔یہ ایک مقابلے کی پیشگوئی تھی اور آریہ دھرم کو اس زمانے میں ہندوستان میں ایک بہت بڑی طاقت حاصل تھی لیکن دیگر ہندو فرقے بھی اپنے اپنے رنگ میں مخالفت میں پیش پیش رہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی راہ روکنے کے لئے انہوں نے بھی گھیرے بنائے اور گھیرے تنگ کرتے چلے گئے لیکن آپ جانتے ہیں کہ کس طرح لیکھر ام اور اس جیسے اور مخالفین کی آواز میں جھوٹی نکلیں وہ آواز میں مر گئیں، وہ اپنے اپنے دائرے میں محدود ہوتی چلی گئیں یہاں تک کہ