خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 633 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 633

خطبات طاہر جلد ۸ 633 خطبه جمعه ۲۹ ستمبر ۱۹۸۹ء جس زمانے میں اس جدو جہد کا آغاز ہوتا ہے اس زمانے میں کوئی انسان یہ کہہ نہیں سکتا کہ یہ باریک کمزوری پہر جو پہلے پتھر کے نتیجہ میں پیدا ہوئی تھی یہ کسی طرح بھی ان مخالفانہ لہروں کے اوپر غالب آجائے گی۔چنانچہ آپ کسی بھی مذہب کے آغاز میں جا کر دیکھیں اور کسی مذہب کے اندر پیدا ہونے والی نئی الہی تحریکات کا جائزہ لیں ہمیشہ آپ کو بلا استثناء یہی بات دکھائی دے گی کہ جس تموج کے دور کا میں ذکر کر رہا ہوں یعنی آغاز کا دور اس میں آپ کی عقل یہی نتیجہ نکالے گی کہ مخالفانہ لہریں بہت زیادہ ہیں، بہت شدید ہیں، بہت قوی ہیں اور اس شدت اور جوش کے ساتھ یہ پہلی آواز کو دبانے کے لئے اُٹھ رہی ہیں کہ پہلی آواز کی بقاء کا کوئی سوال باقی نہیں لیکن بلا استثنا ہر دفعہ یہ فتوی جھوٹا نکلتا ہے۔بلا استثنا ہر دفعہ تاریخ آخریہی گواہی دینے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ خدا کی طرف سے اُٹھنے والی آواز لازماً غالب آتی ہے اور اس کی قوت وقت کے گزرنے کے ساتھ مٹنے کی بجائے اور زیادہ مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے اور زیادہ بلند ہوتی چلی جاتی ہے اور زیادہ شدید ہوتی چلی جاتی ہے جبکہ دنیا کا دستور یہ ہے کہ جب لہریں اٹھتی ہیں تو وقت کے گزرنے کے ساتھ وہ کمزور پڑتی چلی جاتی ہیں پس یہ پہچان ہے الہی طاقت سے اُٹھنے والی لہروں کی اور دوسری یعنی وقت کے ساتھ مٹ جانا یہ پہچان ہے مخالفانہ لہروں کی نوعیت کی۔ان کی نوعیت سے آپ پہچان سکتے ہیں۔پس اسلام کی تاریخ پر بھی ان حالات کو چسپاں کر کے دیکھیں حضرت مسیح“ کی تاریخ پر مسیحیت کی تاریخ پر ان حالات کو چسپاں کر کے دیکھیں بلا استثناء آپ کو یہی نقشہ ابھرتا دکھائی دے گا پھر بعض نقوش مٹتے دکھائی دیں گے اور بعض نقوش اُبھرتے دکھائی دیں گے۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب آج سے تقریباً سو سال پہلے یہ اعلان فرمایا کہ میں خدا کی طرف سے ہوں تو اس ایک آواز کے مقابل پر اس قدر شدید مخالفت کی لہریں اُٹھیں کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس آواز کو قادیان کے دائرے سے باہر نکلنے نہ دیا جائے گا اور اس کا گلا اسی گھر میں گھونٹ دیا جائے گا جس گھر سے یہ آواز اُٹھی تھی یہ تاریخ کی پہلی کو ہی تھی لیکن اس کے برعکس خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کچھ اور فرمایا۔اور فرمایا کہ میں نے تجھے ایک پیغام عطا کیا ہے میں ہی اس کے پھیلانے کا ذمہ دار ہوں اور میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔