خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 632 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 632

خطبات طاہر جلد ۸ 632 خطبه جمعه ۲۹ ستمبر ۱۹۸۹ء طرح پانی میں آپ ایک پتھر پھینکیں تو اس سے دائرہ کی شکل میں لہریں بننی شروع ہو جاتی ہیں اور وہ لہریں پھیلتی چلی جاتی ہیں اسی طرح جب خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک انسان ایک دعویٰ کرتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے ایک نمائندہ بنا کر بھیجا گیا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ سوسائٹی میں جن میں بظاہر سطح پر کسی قسم کی کوئی ہر دکھائی نہیں دیتی تھی ایک پتھر پھینک دیا گیا ہے اور اس پتھر کے نتیجے میں چاروں طرف لہروں کا تموج پھیلتا ہوا دکھائی دینے لگتا ہے۔اس تموج کے ساتھ ساتھ وہ آواز بھی پھیلنے لگتی ہے اور اس آواز کی پہنچ کے دائرے وسیع تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔پھر اس کے برعکس ہم اور کثرت سے اس پانی کی جھیل کے اوپر پتھر برستے ہوئے دیکھتے ہیں اور وہ پھر مخالفانہ لہریں پیدا کرنے والے پتھر ہوا کرتے ہیں اور اس کثرت کے ساتھ ان کی بوچھاڑ ہوتی ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ پہلی لہریا پہلی لہروں کا تموج کلیہ نئے پتھروں کی بارش کی طرح جاری کردہ لہروں میں ڈوب جائے گا اور صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔سی وہ خاص تاریخ کا دور ہے جسے میں تاریخ ساز دور کہتا ہوں اور جس میں سے اب ہم گزر رہے ہیں اور جب آپ وسیع نظر سے اپنے ماضی کو دیکھیں آپ یہ معلوم کر کے حیران ہوں گے کہ ہمیشہ وہ پہلا پتھر جس نے لہروں کا آغاز کیا تھا باوجود اس کے کہ اس کی مخالفانہ اُٹھنے والی لہر میں اس سے بہت زیادہ تموج میں شدید ہوا کرتی تھیں، باوجود اس کہ ایک چھوٹے سے پتھر کی پیدا کردہ لہر کے مقابل پر یوں معلوم ہوتا ہے کہ چٹانیں اس پانی پر برسنے لگی ہیں اور مخالفت کا ایک طوفان برپا ہو چکا ہے لیکن حیرت کے ساتھ آپ ہمیشہ یہ بات مشاہدہ کریں گے کہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ تموج کی شدید لہریں جو خدا کے نام پر جاری شدہ آواز کے مقابل پر پیدا ہوتی تھیں وہ مٹنے لگتی ہیں اور وہ کمزوری آواز جو ایک ہلکی سی خوش نما لہر کی صورت میں اُٹھی تھی وہ دن بدن طاقتور ہوتی چلی جاتی ہے اور اس کی لہروں میں مزید توانائی آنی شروع ہو جاتی ہے یہاں تک کہ بڑے بڑے طوفانی تموج پر غالب آ جاتی ہے لیکن یہ بعد میں ہونے والی باتیں ہیں اور ہمیشہ بہت دور کا انسان جب زمانے میں مڑ کر دیکھتا ہے تو اس بات کا مشاہدہ کرتا ہے اور تمام مذاہب کی آغاز کی تاریخ اور آغاز کے بعد رونما ہونے والے واقعات اور ان واقعات کے بعد کی پھر لمبی تاریخ بالکل اسی مضمون کو دہراتی چلی جاتی ہے جو میں نے آج ایک تمثیل کی صورت میں آپ کے سامنے بیان کیا ہے۔